موتی جس کو چاہیے، جل میں ڈبکی کھائے
ندی کنارے رونے سے موتی ہاتھ نہ آئے
معلیٰ
ندی کنارے رونے سے موتی ہاتھ نہ آئے
ہر اک کو بقدرِ ذوق پہنچائے ہیں کیا شوقِ طلب ہے دیکھ پتوں کی طرف ہر شاخ سے سو ہاتھ نکل آئے ہیں
دنیا مری پُرنور ہوئی جاتی ہے جتنے ہوئے جاتے ہیں خیالات بلند منزل بھی مری دُور ہوئی جاتی ہے
عرفاں کا سجا ہے آستانہ دل میں میں دولتِ کونین لیے پھرتا ہوں مخفی ہے محبت کا خزانہ دل میں
خاکی ہوں مگر خاک نہیں ہوں اے دل تاباں ہے مرے سینے میں وہ نور کہ میں گو فرش پہ ہوں عرش نشیں ہوں اے دل
مطلوب وہی کعبۂ مقصود وہی ہے غیر کہاں صنم کدے میں موجود معبود بھی خود وہی ہے مسجود وہی
عابد تجھے معبود سمجھ لیتا ہے حیراں ہوں کہ توحید کا قائل یونکر اپنے کو بھی موجود سمجھ لیتا ہے
مرحبا ،محبوبِ رب العالمیں مسجد میں ہیں جلوہ فرما رحمۃ للعالمیں مسجد میں ہیں ہیں تنِ تنہا، نہیں ہے کوئی بھی تو اِن کے پاس روشنی میں اِن سے پا لوں ، دل میں یہ جاگی ہے آس حاضرِ خدمت ہوئے بوذر بہت کچھ سوچ کر چاہتے تھے وہ سمیٹیں ، اپنے دامن میں گُہر […]
ہر سمت نجومِ پُر شرر جلتے ہیں شہبازِ تخیل کی رسائی معلوم اس راہ میں جبریلؑ کے پر جلتے ہیں
کون اس میں مکیں ہے تن کی بستی کیا ہے گو پُر ہو شرابِ پرتگالی سے مگر مینا کو خبر نہیں کہ مستی کیا ہے