فطرت کے لبوں پہ مسکرایا ہے خیال
دنیا پہ وجود بن کے چھایا ہے خیال تکوینِ جہاں کا راز اتنا ہے فقط اللہ کے دل میں ایک آیا ہے خیال
معلیٰ
دنیا پہ وجود بن کے چھایا ہے خیال تکوینِ جہاں کا راز اتنا ہے فقط اللہ کے دل میں ایک آیا ہے خیال
رنجور کو شافی سے شفا ملتی ہے فانی کی محبت میں فنا ہے اے دلؔ باقی کی محبت میں بقا ملتی ہے
منقبت امام حسن مجتبٰی رضی اللہ عنہ نانا تمہارے نبیوں کے سردار مجتبٰی والد تمہارے حیدر کرار مجتبٰی سب جنتی جوانوں کے سردار مجتبٰی ہیں کاروانِ عشق کے سالار مجتبٰی بھائی تمہارے سید الشہداء ہیں بالیقین مادر تمہاری سب سے حیادار مجتبٰی جس شخص کے بھی دل میں ہے بغض معاویہ ہیں ایسے سارے لوگ […]
مِرا نصیب جگانے حضور آئیں کبھی خوشی کا مژدہ سنانے حضور آئیں کبھی مجھے بھی جلوہ دکھانے حضور آئیں کبھی چمن میں پھول کھلانے حضور آئیں کبھی کہ اجڑے دل کو بسانے حضور آئیں کبھی حسن حسين جو پیارے ہیں آپ کو آقا انہیں کا صدقہ لٹانے حضور آئیں کبھی خمار جس کا رہے عمر […]
تھکے ماندے مسافر کو بھی سستانے نہیں دیتے
رحم ترا ، کرم ترا ، قہر ترا ، غضب ترا
نہ پڑے بال مگر ایک بھی آئینے میں
مر کر بھی کوئی قید سے آزاد ہوا ہے
ڈوبنے والے کو اک تنکا بھی ساحل ہو گیا
دو قدم اور جو آگے بڑھے ویرانے سے