سلونی سلونی کا یہ تاجور

میں کوفہ کی قاتل فضاؤں میں گم ہوں میں ماتم کی غمگیں صداؤں میں گم ہوں او ساجد کے قاتل او عابد کے قاتل او زاہد کے قاتل انگوٹھی کا تحفہ، تجلی، تشفی، عقیدت، محبت خدا کی رضاؤں کے قاتل او! کوفہ کی گلیوں،محلوں کی رونق کے قاتل دنوں کی سفیدی سے تیرہ شبی ایسے […]

یزیدوں کی نسلوں کو پیغام پہنچے

یہ میدان خُم میں جو من کُنتُ مولا کا نعرہ لگا تھا تو مسجد میں کوفے کی نفسِ مُحّمد علی کی شہادت اُسی قول سرور سے تمہاری نسلوں کی تھی یہ عداوت یہ من کُنتُ مولا کا نعرہ ہی تھا جس کی آتش کی حدت ہمیں کربلا میں یزیدوں کی نسلوں کے سینوں میں اُٹھتی […]