ہمیشہ ہم نے خود بڑھ کر اٹھایا ہے پیالے کو
ہمارے کام جب آئی تو اپنی تشنگی آئی
معلیٰ
ہمارے کام جب آئی تو اپنی تشنگی آئی
دامن رفو ہوا ، نہ کوئی آستیں سلی
ہر صبح ہوا آ کر زنجیر ہلا دے گی اس چاند کے پیالے میں ہے زہر بھی امرت بھی تنہائی خدا جانے کیا چیز پلا دے گی
اک تار بھی نہیں کہ گریباں کہیں جسے
ہم نے وہیں کھولی تھی زخموں کی دوکاں پہلے
جو لوگ جانتے تھے وہ انجان ہو گئے
اُلجھ رہی ہے صبا ، راستہ نہیں ملتا حرم ہزار ملے ، بت کدے ہزار ملے زبان سوکھ گئی ، میکدہ نہیں ملتا
میں کوفہ کی قاتل فضاؤں میں گم ہوں میں ماتم کی غمگیں صداؤں میں گم ہوں او ساجد کے قاتل او عابد کے قاتل او زاہد کے قاتل انگوٹھی کا تحفہ، تجلی، تشفی، عقیدت، محبت خدا کی رضاؤں کے قاتل او! کوفہ کی گلیوں،محلوں کی رونق کے قاتل دنوں کی سفیدی سے تیرہ شبی ایسے […]
یہ میدان خُم میں جو من کُنتُ مولا کا نعرہ لگا تھا تو مسجد میں کوفے کی نفسِ مُحّمد علی کی شہادت اُسی قول سرور سے تمہاری نسلوں کی تھی یہ عداوت یہ من کُنتُ مولا کا نعرہ ہی تھا جس کی آتش کی حدت ہمیں کربلا میں یزیدوں کی نسلوں کے سینوں میں اُٹھتی […]
ایسی کوئی جگہ بتلاؤ ، ہونٹ جہاں تر ہوتے ہوں