مرزا سلامت علی دبیر کا یوم وفات

آج عظیم مرثیہ گو شاعر مرزا سلامت علی دبیر کا یوم وفات ہے (پیدائش: 29 اگست 1803ء – وفات: 6 مارچ 1875ء) —— اردو مرثیہ گو تھے۔ مرزا غلام حسین کے بیٹے تھے۔ دہلی میں پیدا ہوئے۔ سات سال کی عمر میں والد کے ہمراہ لکھنو منتقل ہوگئے ۔ سولہ برس کی عمر میں علوم […]

کتب میں یکتا کتاب ٹھہری

وہ زندگی کا نصاب ٹھہری سبھی رسولوں میں ایک ہستی بڑی ہی عزت مآب ٹھہری کتابِ حق کی ہر ایک آیت نبی کی سیرت کا باب ٹھہری انہی کے دم سے ہے بس حقیقت وگرنہ ہر شے سراب ٹھہری یہ رحمتِ عالمیں کی رحمت تو گویا مثلِ سحاب ٹھہری میانِ عاصی و نارِ دوذخ وہ […]

ترِے شہرِ مقدّس پر تری رحمت کے سائے ہیں

اسی امید پر آقا! تری چوکھٹ پہ آئے ہیں مری بخشش کی کچھ صورت نکل آئے گی اس در پر گناہوں سے بھری گٹھڑی تبھی تو باندھ لائے ہیں یہ بخشش ہے نصیب اس کا ترِے در پر جو آ پہنچا کہ جس کے واسطے توُ نے یدِ رحمت اٹھائے ہیں مرے دکھ کا مداوا […]

رشید لکھنوی کا یوم پیدائش

آج مرثیہ ، غزل اور رباعی کے ممتاز شاعر ، میر ببر علی انیس کے نواسے رشید لکھنوی کا یوم پیدائش ہے (پیدائش: 5 مارچ 1847ء – وفات: 2 ستمبر 1918ء) —— زندگی کہتے ہیں کس کو موت کس کا نام ہے مہربانی آپ کی نا مہربانی آپ کی —— میر ببر علی انیس کے […]

آغا شاعر قزلباش کا یوم پیدائش

آج مشہور شاعر، ڈرامہ نگار آخری کلاسیکی دور کے اہم شاعر اور داغؔ دہلوی کے شاگرد آغا شاعر قزلباش کا یومِ پیدائش ہے (پیدائش: 5 مارچ 1871ء – وفات: 11 مارچ 1940ء) —— آغا شاعر قزلباش 5 مارچ 1871ء کو دہلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔ ان اصل نام آغا مظفر علی بیگ قزلباش […]

جن کو نبی کی ذات کا عرفان مل گیا

دارین میں نجات کا سامان مل گیا ان پر نثار میں مرے اہل و عیال سب جن کے کرم سے تحفۂ ایمان مل گیا شکرِ خدا، کتابِ الٰہی کے ساتھ ساتھ خوش ہوں کہ عشقِ صاحبِ قرآن مل گیا جس کو درِ رسول پہ آئی اجل ، اُسے اس نسبتِ رسول کا فیضان مل گیا […]

ترے خواب کی راہ تکتی ہیں آنکھیں

غمِ ہجر میں ہی برستی ہیں آنکھیں بصارت ، بصیرت انہی کی فزوں تر ترا سبز گنبد جو تکتی ہیں آنکھیں سمائے ہوں جن میں مدینے کے جلوے تو ایسی بھلا کب بھٹکتی ہیں آنکھیں مجھے یاد آتی ہیں طیبہ کی گلیاں تو بے ساختہ پھر چھلکتی ہیں آنکھیں تری یاد سے جن کے روشن […]

بے سہارا ہیں ترے در پہ آئے بیٹھے ہیں

تیرے دربار میں دامن بچھائے بیٹھے ہیں بُتان نخوت و پندار سے ملے گی نجات سو اپنے قلب کو کعبہ بنائے بیٹھے ہیں حضور! بھیجا ہے اللہ نے ترے در پر کہ اپنی جان پہ ہم ظلم ڈھائے بیٹھے ہیں اپنے دامان میں اور کچھ نہیں ہے آقا! چار چھ اشکِ ندامت بہائے بیٹھے ہیں […]

دیکھ لوں جا کر مدینہ پاک کو

چین آئے دیدۂ نمناک کو سو رہا ہوں اس لیے بھی چین سے خاک نے سینے لگایا خاک کو پھر لحد میں ہوگیا ان کا کرم تک لیا ہے صاحبِ لولاک کو تیری نسبت سے ملا عزّ و شرف میرے آقا! ذرۂ خاشاک کو گنبدِ خضراء جو تیرے پاس ہے رشک ہے تجھ پر زمیں! […]

مجھ خطا کار پہ آقا جو نظر ہو جائے

زندگی میری مدینے میں بسر ہو جائے جس کو ہو جائے تِرے نام سے نسبت شاہا! بس وہی نام زمانے میں امر ہو جائے بن کے طائر جو مدینے کی فضا میں اُتروں ہجر کی رات کٹے اور سحر ہو جائے ٹہنیاں گاڑیں زمیں میں تو اُنہیں باغ کریں شاخ کو ہاتھ لگا دیں تو […]