یوسف ظفر کا یوم وفات

آج اردو کے ممتاز شاعر جناب یوسف ظفر کا یوم وفات ہے (پیدائش: یکم دسمبر 1914ء – وفات: 7 مارچ 1972ء) —— اردو کے ایک ممتاز شاعر جناب یوسف ظفر (Yousaf Zafar) یکم دسمبر 1914ء کو مری میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے بڑے نامساعد حالات میں زندگی بسر کی۔ 1936ء میں انہوں نے میٹرک […]

میں کہ ناقص ،کس طرح سے تیری مدحت کر سکوں

بے ہنر ہوں میرے آقا! کیسے جرأت کر سکوں پھول نعتوں کے چنے ہیں عمر بھر اس آس پر قبر میں سرکار آئیں، پیشِ خدمت کر سکوں رات دن ان کا تصور ہر گھڑی ان کا خیال کاش میں اپنے تخیل کو عبارت کر سکوں حشر میں کیجے شفاعت بندۂ ناچیز کی یوں لوائے حمد […]

لوحِ دل پر ہے لکھا اک نام تیرا اور بس

لب پہ ہے صبح و مسا اِک نام تیرا اور بس کیا غرض تیرے بھکاری کو شہانِ دہر سے اس کو ہے کافی شہا !اک نام تیرا اور بس اپنی ہر امید کا ہے مرکز و محور یہی من میں ایسا رچ گیا اک نام تیرا اور بس میرے آقا! چار سُو چھائی ہے شب […]

کوئی خواہش ، کبھی احقر سے جو پوچھا جائے

بس غلاموں میں ترے نام پکارا جائے بحرِ عصیاں کے تلاطم میں گھرا ہوں آقا! اب تو عاصی کو بھی ساحل پہ اتارا جائے حسنِ فردا ہے یقینی بہ طفیلِ شافع پھر بھی لازم ہے کہ امروز سنوارا جائے ان کی الفت ہے جو ایمان کی بنیاد تو پھر عشقِ احمد سے ہی ایماں کو […]

انوار سے سَجا ہُوا ایوانِ نعت ہے

مِدحت مِرے حضور کی عرفانِ نعت ہے طیبہ کی ہر گلی میں ہے مہکار اس لئے ہر گام پر کِھلا ہُوا بُستانِ نعت ہے قرآنِ پاک ذکر ہے خُلقِ عظیم کا اس كکا ہر ایک لفظ ہی عُنوانِ نعت ہے ہر شعبۂ حیات نے پائی ہے روشنی ’’ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے‘‘ ذکرِ […]

ہونٹوں پہ ہمیشہ سے ہیں تذکارِ مدینہ

ہوتی ہے فزوں خواہشِ دیدارِ مدینہ ہوں دُور پہ ملتے ہیں، وہ لمحاتِ حضوری رہتے ہیں تصور میں جو سرکارِ مدینہ آتی ہیں مجھے یاد مدینے کی بہاریں آنکھوں میں سمو لایا تھا انوارِ مدینہ خوشبو ہے وہ عنبر میں نہ مشکِ خُتن میں جس سے کہ مہکتا ہے وہ دربارِ مدینہ ایمان بھی آخر […]

دنیا میں جن کے نُور کی چھائی ہے روشنی

آنکھوں نے ان کے نُور سے پائی ہے روشنی غارِ حرا سے نُور کی پھوٹی ہے جو کرن ظلمت سے دُور سب کو وہ لائی ہے روشنی دنیا و آخرت میں وہی سرخرو ہوئے جس نے بھی زندگی میں کمائی ہے روشنی بطحا کے آسمان پہ چمکا عرب کا چاند ہر سو اسی قمر کی […]

حاصل نہیں جو آگہی تو علم و فن ہے کیا

ذکرِ نبی اگر نہیں مشقِ سخن ہے کیا سرکار دو جہاں کے پسینے کے سامنے عطر و گلاب و عنبر و مشکِ ختن ہے کیا حسنِ نبی کا فیض ہے گلشن کی رونقیں اس کے بغیر نکہتِ سر و سمن ہے کیا مجلس ہے خیر سے تہی ذکرِ نبی بنا ان کی نہیں ہے گفتگو […]

رُخِ مصطفٰی کی ہے روشنی یہ چمک جو شمس و قمر میں ہے

رُخِ مُصطفٰی کا ہی عکس ہے یہ دمک جو لعل و گہر میں ہے جو اٹھا رہا ہے قسم خدا وہ ترا ہے چہرۂ دلربا! کہ تُوئی سراجِ منیر ہے یہ قمر بھی تیرے اثر میں ہے ترے ہجر کی جو ہیں ساعتیں ،یہ سکون سارا ہی لے گئیں سو مداوا اس کا تمہی تو […]

خوش نصیبی! ترا آستاں مل گیا

اس کڑی دھوپ میں سائباں مل گیا تیری سیرت رہی جس کے پیشِ نظر اس کو منزل کا روشن نشاں مل گیا خوش مُقدّر ہیں وہ سب کبوتر جنہیں گنبدِ سبز پر آشیاں مل گیا کشتیٔ نوحؑ جس کو نبی نے کہا بے سہاروں کو وہ خانداں مل گیا خوش نصیبی کہ اذنِ حضوری ملا […]