نعمتِ زیست وہ کچھ ایسے عطا کرتے ہیں
ہاتھ وہ ڈوبتوں کا تھام لیا کرتے ہیں وہ کوئی دشمنِ جاں ہو کہ کوئی دل کا حبیب اللہ والے تو دعائیں ہی دیا کرتے ہیں ٹھوکریں مار دیں دنیا کی شہنشاہی کو آپ کی جو بھی غلامی میں رہا کرتے ہیں دور ہیں شہرِ مدینہ کی فضاؤں سے جو تم ہی بتلاؤ کہ وہ […]