مُفلسِ زندگی، اب نہ سمجھے کوئی، مجھ کو عشقِ نبی، اِس قدر مِل گیا
جگمگائے نہ کیوں، میرا عکسِ دَروں، ایک پتھر کو، آئینہ گر مِل گیا جس کی رحمت سے تقدیرِ انساں ُکھلے، اُس کی جانب ہی دروازۂ جاں ُکھلے جانے عمرِ رواں، لے کے جاتی کہاں، خیر سے مجھ کو خیرالبشر مِل گیا محورِ دو جہاں ذات سرکار کی، اور مِری حیثیت ایک پرکار کی اُس کی […]