شرمندہ سا لرزیدہ سا میں صحنِ حرم میں آیا ہوں
لے کر اک بوجھ گناہوں کا، میں صحنِ حرم میں آیا ہوں گر تو نہ بخشے گا مجھ کو، پھر کیسے بخشش پاؤں گا کر کے اُمیدیں وابستہ، میں صحنِ حرم میں آیا ہوں اِک ٹوٹی ہوئی سی ڈالی ہوں، میں تیرے کرم کا سوالی ہوں دل کو تھامے گرتا پڑتا، میں صحنِ حرم میں […]