کرنل شفیق الرحمن کا یوم پیدائش

آج معروف مزاح نگار کرنل شفیق الرحمن کا یوم پیدائش ہے کرنل شفیق الرحمن 9 نومبر 1920 کو کلانور مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے۔ شفیق الرحمن کے والد کا نام عبد الرحمن تھا۔ انہوں نے ایم بی بی ایس (پنجاب) ڈی پی ایچ (اڈنبرا۔ برطانیہ) ڈی ٹی ایم اینڈ ایچ (لندن) فیلو آف فریشنز اینڈ […]

مرے خدا مجھے وہ طرز خوشنوائی دے

کہ روم روم سے مدح نبی سنائی دے اسی جوار کرم میں مجھے بھی رہنا ہے جہاں سے روضۂ خیرالوریٰ دکھائی دے نبی کے اسوۂ کامل پہ کاربند رہوں نبی کے نقش کف پا کی رہنمائی دے متاعِ جاہ و حشم کی نہیں طلب مجھ کو دیار سرور کونین کی گدائی دے یہ سر تو […]

اک کرم اور کرم بانٹنے والے کر دے

میری سانسوں کو درودوں کے حوالے کر دے طائر سدرہ ہیں جس در کے گداگر یارب میری قسمت میں اسی در کے نوالے کر دے دے مجھے مرہم دیدار شہ کون و مکاں دور دل سے مرے ارمان کے چھالے کر دے جن سے سیراب ہوا کرتے ہیں اخیار ترے ابر اس سمت بھی وہ […]

ماورا فہم و تخیل سے ہے رتبہ تیرا

کیا کرے تیری ثنا بندۂ ادنیٰ تیرا بحر عظمت کا ترے ایک جو قطرہ لکھدوں وہ بھی ہوگا مرے معبود کرشمہ تیرا تیری عظمت، تری رفعت، تری تقدیس لکھوں کیسے ممکن ہے ملے گر نہ سہارا تیرا ساری خلقت پہ خدایا ہے حکومت تیری شرکت غیر کہاں صرف ہے قبضہ تیرا شرق سے غرب تلک […]

علی الدوام وجود و قیام ہے اس کا

نہ ابتدا ، نہ کوئی اختتام ہے اس کا اک ایک ذرہ ہے مصروف کار پردازی کچھ اس طرح سے منظم نظام ہے اس کا اسی سے گلشن عالم میں ہے بہار و خزاں اسی کا نورِ سحر ، رنگ شام ہے اس کا اگر نظر ہے؟ تو اک اک کرن میں اسکی خبر خرام […]

بدر کامل شہ نواب ہے چہرہ تیرا

تیرگی چھو نہیں سکتی رخِ زیبا تیرا کاسے بھرتے رہیں، بٹتا رہے صدقہ تیرا کوئی مایوس نہ ہو مانگنے والا تیرا اک نظر دیکھ لیا جس نے ترا حسن و جمال آئینہ خانے میں کرتا رہے چرچا تیرا شاہ نواب کے آئے تھے خیالات ابھی اے مرے ذہن بتاتا ہے مہکنا تیرا اے مرے ابر […]

جون ایلیا کا یوم وفات

آج نامور شاعر جون ایلیا کا یوم وفات ہے جون ایلیا (14 دسمبر، 1931ء – 8 نومبر، 2002ء) برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی […]

یہ بارگہِ حضرت نواب علی ہے

اس در کا جو منگتا ہے وہ شاہوں سے غنی ہے اعزاز ہے حاصل تجھے اولاد نبی کا عظمت کی نشانی یہی اعلیٰ نسبی ہے مل جائے گا سب کچھ ذرا دامن کو پسارو کس چیز کی ان کے در دولت پہ کمی ہے امواجِ بہارِ درِ نواب کے صدقے ہر شاخ تمنا مری پھولوں […]

شاہ نواب ملا جس کو غسالہ تیرا

ماہ و خورشید پہ ہنستا ہے وہ ذرہ تیرا اب بھی ازبر ہے اسے چہرۂ زیبا تیرا دل مرا پڑھتا ہے دن رات قصیدہ تیرا رات تاریک تھی لمحات تھے صدیوں جیسے آگئی بادِ صبا نام جو سوچا تیرا اٹھ نہیں سکتا کہیں اور مرا دست سوال خوان رحمت سے ترے پاؤں نوالہ تیرا نکہتیں […]

آئِنہ کردار ہیں خواجہ حسن

ابر گوہر بار ہیں خواجہ حسن پھیر دے دست شفا پائیں شفا ہم ترے بیمار ہیں خواجہ حسن معرفت کی محفل پر نور کے محرم اسرار ہیں خواجہ حسن جو گیا نزدیک یہ کہنے لگا کتنے خوشبودار ہیں خواجہ حسن کیوں نہ اہل دل کی آنکھوں کا ہوں نور عاشق سرکار ہیں خواجہ حسن یہ […]