زُبان سے جو کہا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ

سُکونِ قلب مِلا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ ہر ایک دَرد اِسی سے ہُوا ہے دُور مِرا ہر ایک غَم کی دَوا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ وجودِ باری کی معبودیت کا اعلاں بھی جمالِ لُطف و عطا لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ فقط مِرا ہی نہیں دو جہاں کی ہر شے کا ہے وردِ صبح و مَسَا […]

چلا ہے شان سے کربل ، جگر حسینؓ کا ہے

بہت کٹھن ہے مگر یہ سفر حسینؓ کا ہے تجھے بتاؤں کہ کربل کا فائدہ کیا ہے؟ جو دین زندہ ہے اب ، یہ اثر حسینؓ کا ہے وہ شاہِ خلد ہیں سردار نوجوانوں کے خدا سے پیار کا ایسا اجر حسینؓ کا ہے جو جا رہے ہو اگر سوئے کربلا لوگو ادب سے سر […]

معروف ناول نگار منشی پریم چند کا یومِ وفات

آج اردو ادب کے معروف افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور ناول نگار منشی پریم چند کا یومِ وفات ہے۔ منشی پریم چند سنین کے آئینہ میں۔ ۱۸۸۰ء : پیدائش ، اصل نام دھنپت رائے، چچا نے نام رکھا منشی پریم چند، ابتدائی قلمی نام نواب رائے، دوسرا قلمی نام پریم چند۔ ۱۸۸۵ء : مولوی […]

قلم سے پھول سجا کر دعا کے لے آیا

حضور نعت نئی اک بنا کے لے آیا ہر ایک شعر میں دیوان مدحتوں کا ہے میں بوند بوند میں دریا چھپا کے لے آیا اٹھی تھی دل میں مرے عشق کی لگن سرکار کثیف دل سے وہ ہیرا چرا کے لے آیا درود و نعت ہیں اور اشک بار آنکھیں ہیں جو زادِ راہ […]

حُسن کی تشبیہ کے سب استعارے مسترد

مصطفٰی کے سامنے سارے کے سارے مسترد کیا مثالِ محفلِ سرکار ہو ، اصحاب ہوں پھر چمکتا چاند ہو یا ہوں ستارے، مسترد گنبدِ خضرٰی کے جلوے اللہ اللہ ہیں کمال زیست کے باقی ہوئے سارے نظارے مسترد وقتِ محشر نعت کے الفاظ تولے جائیں گے اور باقی شعر سارے اور شمارے مسترد زیست کی […]

رحمتوں سے بھری اک نظر کے غلام

منفرد سب میں ہیں اُن کے در کے غلام نسبتِ مصطفٰی ہیں علی کے غلام ہیں وہ صدیق و عثماں، عمر کے غلام گر بلاوہ مدینے سے سرکار ہو جھومتے جائیں گے اُس نگر کے غلام بے کراں رحمتوں کا سمندر ہیں وہ فیض پاتے ہیں سب بحر و بر کے غلام حشر میں حوضِ […]

طبیب ڈھونڈ لیا تو شِفا کو پا لے گا

حضور تک جو گیا وہ خدا کو پالے گا درود ورد ہو جس کا ، جو نعت پڑھتا ہو وہ شخص دیکھنا ان کی رضا کو پا لے گا مریض ان کی محبت کا روزِ محشر میں نگاہِ سرورِ دیں کی دوا کو پالے گا صریرِ خامہ سے خشبو بکھرتی جاتی ہے قلم بھی نعت […]

عطا کر عشق کا رستہ خدایا

لئے ہوں عرض لب بستہ خدایا کرم کی اب نظر فرمائیے گا کہ میرا حال ہے خستہ خدایا مقابل نفس ہے کنکر عطا کر ابابیلوں کا دے دستہ خدایا مرا قلبِ حزیں ہر دم پکارے ترا ہی نام بر جستہ خدایا بلندی کر عطا اخلاق میں تو نہ ہوں کردار کا سستا خدایا

پوری امت کو جو سینے سے لگائے ہوئے ہیں

ہم بھی سرکار سے امید بنائے ہوئے ہیں ہر طرف ایک تجلی سے ہوئی ، نور سماں ہے گماں جیسے وہ محفل میں سمائے ہوئے ہیں مسجدِ اقصیٰ سے ہو کر جو گئی سدرہ تلک راہ پوری کو فرشتے بھی سجائے ہوئے ہیں نامِ احمد سے ملائک ہیں بناتے موتی ایک مالا وہ درودوں سے […]

عطا حضور مجھے یہ سرور ہو جائے

کہ خواب میں مجھے دیدارِ نور ہو جائے مزہ تڑپ میں ہے یا پھر قرار پانے میں مدینہ جا کے یہ الجھن بھی دور ہو جائے سخن لکھوں تو ہو تعریف آپ کی اس میں درود میرا وظیفہ حضور ہو جائے میں نعت پڑھ لوں جو روضے کے سامنے اک بار تو پرسکون دلِ نا […]