یہ بزمِ جہاں مصطفیٰ سے سجی ہے

ثنائے محمد کو دنیا بنی ہے سناؤں میں نعتِ نبی ان کے در پر ہمیشہ مرے دل میں حسرت رہی ہے قلم کی سیاہی درودوں کی لے پر سلام ان کی ہی ذات پر بھیجتی ہے زیارت مدینہ کی خوابوں میں ہو گر محبت اسے بھی کرم مانتی ہے خیالِ مدینہ کو طاری جو کرلے […]

کرم اس سے بڑا کیا ہو خدایا

ہمیں سرکار کی امت بنایا زمیں اس بات پر نازاں رہا کر تجھے کیسا مدینے سے سجایا وہ پتھر دل تھے انکارِ نبوت سو کلمہ پتھروں نے بھی سنایا مثالِ درگزر ایسی نہ ہوگی کہ دشمن کو بھی سینے سے لگایا مرے سرکار قدموں میں بلالیں انہی لفظوں سے اشکوں کو بہایا بسیرا ہو مدینہ […]

تمنا دل کی بڑھتی جا رہی ہے

خلش دوری کی اب تڑپا رہی ہے اکیلا تو نہیں میں نعت پڑھتا چمن کی ایک اک شے گا رہی ہے وسیلہ ان کا میرے کام آیا کہ میری بات بنتی جا رہی ہے مدینے کو اکیلا کب چلا ہوں محبت بھی سفر پر جا رہی ہے نہیں ہے دور اب وہ سبز گنبد ہوا […]

محشر میں ان سے بڑھ کے تو کوئی اماں نہیں

ان پر یقین ہے مرا ہرگز گماں نہیں طاقت قلم میں وہ کہاں تعریف لکھ سکے ان کی ثنا بیاں جو کرے وہ زباں نہیں شاعر ہوں میں طبیب ہوں سب کچھ تو ہوں مگر میں کچھ نہیں حضور کا گر نعت خواں نہیں رونق کہاں ہے ان کی گلی سی جہان میں ان کے […]

عاصی ہوں میں سرکار مگر میری صدا ہے

مرقد ہو مدینے میں فقط ایک دعا ہے گر اذنِ مدینہ مرے اشکوں کو ملے دان گریہ کی ملے اس بڑی کیا ہی جزا ہے ہو گنبدِ خضرا کی تجھے چھاؤں میسر ملتی ہے مجھے ماں سے جو اکثر یہ دعا ہے مجھ کو بھی حضوری کا شرف ہو کہ میں دیکھوں کیسی مرے سرکار […]

نثار تجھ پہ کہ رخسار کا لیا بوسہ

حلیمہ تونے تو سرکار کا لیا بوسہ مدینہ پاک کے آثار جب نظر آئے زمین چوم کے اشجار کا لیا بوسہ سجائی محفل میلاد جس گھڑی گھر میں مہک نے جھوم کے گھر بار کا لیا بوسہ عکاشہ آپ کی حکمت پہ میں ہوا قربان جو مُہر پاک پہ یوں پیار کا لیا بوسہ جو […]

شاعر اختر انصاری دہلوی کا یوم وفات

آج ممتاز ترقی پسند شاعر، افسانہ نگار اور نقاد اختر انصاری دہلوی کا یوم وفات ہے۔ اختر انصاری یکم اکتوبر 1909ء کو بدایوں میں پیدا ہوئے اور 6 اکتوبر 1988ء کو علی گڑھ میں وفات پائی۔ ان کے والد نے ریٹائرمنٹ کے بعد دہلی میں مستقل طور پر سکونت اختیار کر لی تھی ، اس […]

نہ مثل ہے، بے مثال ہیں آپ

سو کل جہاں میں کمال ہیں آپ امین ایسے کہ مانیں دشمن ہیں سچ کی عظمت، جلال ہیں آپ حسین یوسف بھی کم نہیں تھے کمال حسنِ جمال ہیں آپ ہے آپ کی رحمتوں کی برکت مرا تو ہر دم خیال ہیں آپ سہارا جس کا رہا ہمیشہ دکھوں کے آگے وہ ڈھال ہیں آپ