مجھے بھی لائے گا شوقِ سفر ’’مواجہ‘‘ پر
شبِ فراق کی ہو گی سحر ’’مواجہ‘‘ پر زباں سے عرضِ تمنا نہ کر سکا لیکن کھڑا تھا ہاتھ، مگر باندھ کر ’’مواجہ‘‘ پر ازل سے محوِ سفر ہے ہمارا ذوقِ نظر تمام ہو گا ہمارا سفر ’’مواجہ‘‘ پر اُنہی کے جود و عطا کا جہاں میں شہرہ ہے یہی لٹاتے ہیں لعل و گہر […]