نبی کے دم سے ہی یہ ہست و بود قائم ہیں
رواں دواں ہے جہاں اور وجود قائم ہیں ہوائے طیبہ مرے بام و در سے گزری ہے فضائے دل میں مرے مشک و عود قائم ہیں برورِ حشر ہر اک فعل مسترد ہے مگر پڑھے تھے جتنے بھی سارے درود قائم ہیں نبی کی آلِ عبا کے لہو کا ہے یہ ثمر بہ پیشِ رب […]