جگہ مل جائے مدفن کی مدینے میں

لِکھی ہو کاش میری بھی مدینے میں مری سانسیں مجھے دھوکہ نہ دے جائیں بلا لو مصطفیٰ جلدی مدینے میں نہ جانے کیسے میں خود تو چلا آیا پہ آنکھیں رہ گئیں میری مدینے میں ہو افطاری مری ملتان میں آقا یہ خواہش ہے کروں سحری مدینے میں کہیں ٹھہرا ترا دل مرتضیٰ اشعرؔ کہیں […]

جب بھی پہنچا ہوں آقا کے دربار تک

آنکھ کہنے لگی ہو کے سرشار تک محوِ پرواز ہے پھر تخیل مرا پھر سے بڑھنے لگی دل کی رفتار تک قدسیوں نے تراشی ہے روشن لکیر عرش سے روضۂ شاہِ ابرار تک آپ جیسا کوئی تھا نہ ہوگا کہیں ذاتِ بے مثل سیرت سے کردار تک ہو مدینے کی دل میں کسک مرتضیٰؔ یہ […]

آرہا ہے مری ہر دعا میں اثر

بڑھ رہا ہے مسلسل یہ ذوقِ سفر چشمِ خفتہ کا ہے خوابِ بیدار یہ آنکھ کھولوں مقابل ہو اُن کا نگر کاش مل جائے میری جبیں کو بھی اب میرے آقا کا ، سلطان کا سنگِ در آپ ہیں آسرا عاصیوں کا حضور اس لئے ہے شفاعت پہ سب کی نظر بے سلیقہ ہوں میں […]

اوجِ صدق و صفا سیّدی مصطفیٰ

سرورِ انبیأ سیّدی مصطفیٰ حق کی منشأ وہی ، حق کا وہ فیصلہ جو ہے تیری رضا سیّدی مصطفیٰ کوئی بھی اُن کے در سے نہ خالی گیا بحرِ جود و سخا سیّدی مصطفیٰ مرتبہ اُن کے جیسا کسی کو ملا؟ مرحبا مصطفیٰ ، سیّدی مصطفیٰ جو بھی اسوہ پہ تیرے چلا ، پاگیا خلد […]

یہ زمیں تیری ، آسمان ترا

اور اس کے جو درمیان ترا یہ زمان و مکان تیرے ہیں یہ جہاں تیرا ، وہ جہان ترا ثبت ہر قرن ، ہر زمانے پر تجھ سے پہلے بھی تھا نشان ترا ہم طلب گار تیری رحمت کے ہم پہ چھت تیری ، سائبان ترا سارے مشغول ہیں گدائی میں سنگِ در تیرا ، […]

میں کہاں جاؤں تیرے در کے سوا

ہے کہیں کیا اماں؟ اِدھر کے سوا تیری چاہت ہے میرا سرمایہ ورنہ دنیا میں کیا ہے شر کے سوا منتظر اذنِ حاضری کے ہیں مضمحل جان چشمِ تر کے سوا عشق تیرا ہو منکشف مجھ پر پھر رہے کچھ نہ اِس اثر کے سوا چاہیے اور کیا ؟ بھلا مجھ کو میرے آقا کی […]

منقبت سیّدہ فاطمہؓ سیّدۃ النسأ :عکسِ فکرِ حیأ سیّدہ فاطمہؓ

عکسِ فکرِ حیأ سیّدہ فاطمہؓ شمعِ بزمِ ردا سیّدہ فاطمہؓ سربسر زینتِ خانۂ مُرتضیٰؓ بنتِ خیرالوریٰ سیّدہ فاطمہؓ زہد و تقویٰ میں جن کا نہ ثانی کوئی طیبہ ، طاہرہ ، سیّدہ فاطمہؓ عرش سے جن کے سجدوں کو عظمت ملی آپؓ وہ ساجدہ سیّدہ فاطمہؓ میں بھی اشعرؔ ہوں ادنیٰ سا اُن کا غلام […]