منقبت سیّدنا ابی طالب : صبر کی انتہا ہے سجدے میں

صبر کی انتہا ہے سجدے میں خونِ ناحق بہا ہے سجدے میں حملہ آور ہوا کوئی ملعون اور علی مرتضیٰؓ ہے سجدے میں مسجدِ کوفہ بن گئی مقتل فخرِ خیرالوریٰ ہے سجدے میں بزدلی دیکھ ابنِ ملجم کی میرا شیرِ خدا ہے سجدے میں قدسیوں نے کہا گواہی میں اوجِ صبر و رضا ہے سجدے […]

مل گئی جب گلی مدینے کی

آرزو بڑھ گئی ہے جینے کی جو اطیعو الرسول میں گزرے ہے وہی زندگی قرینے کی نعت کا فیض بھی ملا مجھ کو یہ نوازش بھی زندگی نے کی آپ ہیں انتہا نبوت کی اس کی تصدیق ہر نبی نے کی اب تو ہو جائے اِک نگاہِ کرم اب تو بجھ جائے آگ سینے کی […]

مستند ہے یوں تو سارے انبیأ کی روشنی

ہے جدا سب سے محمد مصطفیٰ کی روشنی کیا تعلق تھا گپھاؤں کا دوامی نور سے آپ کے مرہونِ احساں ہے حرا کی روشنی مظہرِ نورِ احد کے جلووں کے اثبات کی معترف ہے آج تک مروہ ، صفا کی روشنی پرتوِ اجمال احمد کے سبب ہے یہ بہار طیبہ میں رہ دیکھیے صبح و […]

محمد کے پسینے کی مہک ہے

تخیل میں مدینے کی مہک ہے ریاض الجنّہ کی بیٹھک کے لمحات ترے منبر کے زینے کی مہک ہے مرا دل مستقر حبِ نبی کا مری سانسوں میں سینے کی مہک ہے وہ دسترخوانِ نعمت جو بچھے ہوں وہاں قہوے کے پینے کی مہک ہے وہ تیرے شہر میں مرنے کی خواہش تری مسجد میں […]

رودادِ سفر جس کو سنائی ترے در کی

ہر ایک نے چاہی ہے رسائی ترے در کی آنکھوں میں بسایا ہے تصور کا سلیقہ پلکوں پہ کبھی خاک سجائی ترے در کی کمخواب کی، اطلس کی نہ مخمل کی طلب ہے اے کاش ملے مجھ کو چٹائی ترے در کی جاروب کشی میرا مقدر ہو وہاں پر کرتا رہوں دن رات صفائی ترے […]

درود اُن پر جو انتخاب اور پسند رب کی

سلام اُن پر جو آرزو عام و خاص سب کی درود اُن پر کہ جن کا سایہ نہیں کوئی بھی سلام اُن پر کہ اُن سا آیا نہیں کوئی بھی درود اُن پر مدام ، اُمّی لقب ہے جن کا سلام اُن پر کہ اعلیٰ نام و نسب ہے جن کا درود اُن پرجو عرش […]

تمنّا کا خلاصہ آرہا ہے

مدینے سے بلاوا آرہا ہے وہ اظہارِ تشکر سے ہے قاصر نہیں الفاظ گویا آرہا ہے سفینے سے مناظر تک رہا ہوں قریب اپنے کنارہ آرہا ہے نجانے تجھ تلک پہنچا نہیں کیوں؟ کوئی مدّت سے چلتا آرہا ہے اجازت مرحمت فرمائیں آقا کوئی بھولا کہ بھٹکا آرہا ہے میں تو ملتان میں بیٹھا ہوا […]

ترے در کی ہم کو گدائی ملی ہے

زمانے کے غم سے رہائی ملی ہے اُسی واسطے سے مری ہر دعا کو خدا تک برابر رسائی ملی ہے اُنہیں بھی کبھی اذن ہو حاضری کا جنہیں ہجر یا پھر جدائی ملی ہے اُنہی کا کرم ہے مری زندگی پر کہ جو چیز چاہی وہ پائی ، ملی ہے خدا کی عطا سے انہی […]