آثار بتاتے ہیں دل مرا کہتا ہے سرکار بُلاتے ہیں
آثار بتاتے ہیں دل مرا کہتا ہے سرکار بُلاتے ہیں
معلیٰ
آثار بتاتے ہیں دل مرا کہتا ہے سرکار بُلاتے ہیں
جب بھی میں ان کی نعت کہتا ہوں تذکرے کو ترے عبادت میں پیروی کو نجات کہتا ہوں اُن سے پہلے کا جو زمانہ تھا میں اُسے کالی رات کہتا ہوں یہ حقیقت ہے اسمِ احمد کو میں حلِ مشکلات کہتا ہوں جو دیارِ نبی میں آئے اُس موت کو بھی حیات کہتا ہوں یہ […]
خلد کا راستہ مرحبا مرحبا رشک جس پر کریں سب کے سب انبیأ آپ کا مرتبہ مرحبا مرحبا ظلمتِ شب میں ان کے قدم سے ہوئی نور کی ابتدا مرحبا مرحبا وہ تہی دامنوں پر رہیں ملتفت وہ سراپا سخا مرحبا مرحبا جن کے ملبوس پر چاند پیوند کے وہ شۂ دوسرا مرحبا مرحبا مجھ […]
ہے سراسر عبادات کا سلسلہ وردِ صلِّی علیٰ کے سبب مجھ پہ ہے یہ مسلسل عنایات کا سلسلہ آپ کے نور سے مٹ گئیں ظلمتیں چھٹ گیا ہے سیہ رات کا سلسلہ ہے میسّر تیقّن کو امروز بھی مصطفیٰ کی کرامات کا سلسلہ صرف اذنِ حضوری کا ہوں منتظر ہو بھی جائے ملاقات کا سلسلہ […]
میں نے اِک نام لکھا کاغذ پر
مجھے لگتا ہے یہ مقبول ہونا چاہتی ہیں مدینے کے مناظر کو بیاں کیسے کروں میں مری آنکھیں وہاں کی دھول ہونا چاہتی ہیں نگاہیں اِک تحّیر سے جمی ہیں سنگِ در پر مجھے معلوم ہے مبذول ہونا چاہتی ہیں
ہو منوّر دل تمہارے عشق سے دور دنیا کی محبت کیجیے ’’قطع میری سب سے نسبت کیجیے‘‘
باغِ خلدِ بریں معنبر ہے عرقِ پاکِ شہِ مدینے سے ’’جانِ گل زار کے پسینے سے‘‘
ہم کو گھیرا اسی لیے غم نے دور اِس سے تو تاجِ شاہی ہے ’’اپنی مہمان اب تباہی ہے‘‘
ہے بالیقیں سبب یہ تسکینِ روح و دل کا جس کو مِلا یہ لوگو! قسمت کا وہ دھنی ہے ’’خوش ہوں کہ مجھ کو دولتِ انمول مِل گئی ہے‘‘