’’مہ و خورشید و انجم میں چمک اپنی نہیں کچھ بھی‘‘
ہے ہر سوٗ روشنی جاری، انھیں کے روئے تاباں کی مٹیں جو ظلمتیں ساری ہے صدقہ ان کی رحمت کا ’’اُجالا ہے حقیقت میں انھیں کی پاک طلعت کا‘‘
معلیٰ
ہے ہر سوٗ روشنی جاری، انھیں کے روئے تاباں کی مٹیں جو ظلمتیں ساری ہے صدقہ ان کی رحمت کا ’’اُجالا ہے حقیقت میں انھیں کی پاک طلعت کا‘‘
قرار آتا یقیناً اس طرح سے قلبِ بسمل کو وہ رہتے دیدۂ تر میں تو رہتے قلبِ مضطر میں ’’کبھی رہتے وہ اِس گھر میں کبھی رہتے وہ اُس گھر میں ‘‘
آرزوؤں کا صحرا باغ بن کے کھل جاتا حاضری کا غم میرے دل سے مُستقل جاتا ’’کاش گنبدِ خضرا دیکھنے کو مل جاتا‘‘
علو و رفعتِ خاکِ مدینہ کیا کہیے کہاں سے رتبہ کبھی اِس سے اعلا پائے فلک ’’اسی تراب کے صدقے ہے اعتدائے فلک‘‘
کہ تُو لعل ہے فاطمہ و علی کا نبی کا دلارا شہا غوثِ اعظم ’’ہے محبوبِ ربُّ العلا غوثِ اعظم‘‘
اے بغداد والے تُو اُن کو مٹا دے بڑھے جا رہے ہیں ستَم غوثِ اعظم ’’ذرا لے لے تیغِ دو دَم غوثِ اعظم‘‘
اُس کا چرچا بڑھے از افق تا افق جس نے مدحت تمہاری سکھائی ہے ’’راہ جس نے تمہاری چلائی ہے‘‘
نہیں جس کے دل میں وہ کیا ہو مسلماں جو مٹ جائے اُن پر وہی با وفا ہے ’’اگر یہ نہیں ہے تو ایماں ہَوا ہے‘‘
رب نے مختارِ کل تجھ کو ہی کر دیا تیری ہی تو خدا تک رسائی ہے ’’تیرے قبضہ میں ساری خدائی ہے‘‘
آج نامور شاعر سید سبط علی صبا کا یومِ وفات ہے۔ سید سبطِ علی صبا 11 نومبر 1935ءکو اپنے آبائی گاؤں کوٹلی لوہاراں (مشرقی) تحصیل و ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔والدہ نے ان کا نام سبطِ علی رکھا۔ ان دنوں صبا کے والد زین العابدین فوج کی ملازمت کے سلسلے میں رڑکی (انڈیا) میں تھے۔ […]