’’اک اشارے سے کیا شق ماہِ تاباں آپ نے‘‘
پل میں لوٹایا ہے خورشیدِ درخشاں آپ نے پتھروں نے دی گواہی اے مرے جانِ جمال ’’مرحبا صد مرحبا صلِ علیٰ شانِ جمال‘‘
معلیٰ
پل میں لوٹایا ہے خورشیدِ درخشاں آپ نے پتھروں نے دی گواہی اے مرے جانِ جمال ’’مرحبا صد مرحبا صلِ علیٰ شانِ جمال‘‘
ہو رہا ہے اُن پہ وہ سدرہ کا شہِ پر بھی فدا رشکِ مہر و ماہ و اختر ہیں سراسر ایڑیاں ’’مرحبا کتنی ہیں پیاری اُن کی دل بر ایڑیاں ‘‘
ہر اک کو نعمتِ دارین اُن سے ملتی ہے جو ان کے در پہ مِٹوں کام یاب ہو جاؤں ’’میں کیوں نہ وقفِ درِ آں جناب ہو جاؤں ‘‘
’’طوقِ تہذیبِ فرنگی توڑ ڈالو مومنو‘‘ اس میں اپنی زندگی ہرگز نہ ڈھالو مومنو حق کے متوالو! سنو یہ زندگی اچھی نہیں ’’تیرگی انجام ہے یہ روشنی اچھی نہیں ‘‘
سختیِ خورشیدِ محشر سے حفاظت بھی کریں تیرے پیارے کی خدایا! مہرِ انور ایڑیاں ’’آسمانِ نوٗر کی وہ شمسِ اظہر ایڑیاں ‘‘
اک تصور سے ہی روضہ کے مزا آتا ہے مجھ پہ سوغاتِ کرم اُس نے لٹایا ہو گا ’’ہو نہ ہو اس نے مجھے آج بُلایا ہو گا‘‘
خارِ طیبہ لے کے میں گل کی تمنا کیوں کروں کون کہتا ہے کہ ایسی آگہی اچھی نہیں ’’رہنے دیجے شیخ جی دیوانگی اچھی نہیں ‘‘
شامِ غم تاباں ہوئی نوری سحر کی صورت کہکشاں سے ہے سِوا اُن کے بیانات کی رات ’’کتنی روشن ہے رُخِ شہ کے خیالات کی رات‘‘
اُس کا ہر تارِ نفَس مثلِ قمر نورانی ہے وہ تو کہلاتی ہے انوار کے برسات کی رات ’’رشکِ صد بزم ہے اُس رندِ خرابات کی رات‘‘
خاکِ طیبہ میں فنا ہونے کی ہے خواہش مری اُس کو بِن دیکھے جہاں کی ہر خوشی اچھی نہیں ’’خاکِ طیبہ اچھی اپنی زندگی اچھی نہیں ‘‘