’’میرے آقا میرے مولا، آپ سے سُن کر انی لہا‘‘
نفسی نفسی کا عالم تھا، درد و غم سب دوٗر ہوا مژدہ سُن کر میرے شاہا ’’دم میں ہے دم میرے آیا ‘‘
معلیٰ
نفسی نفسی کا عالم تھا، درد و غم سب دوٗر ہوا مژدہ سُن کر میرے شاہا ’’دم میں ہے دم میرے آیا ‘‘
اک نگاہِ التفات اے میرے شاہا کیجیے زور پر طوفان ہے کچھ آسرا ملتا نہیں ’’ناؤ ہے منجدھار میں اور ناخدا ملتا نہیں ‘‘
بصر کے ساتھ بصیرت مری مجلّا ہو قرار آئے مری بے قرار آنکھوں میں ’’اگر وہ آئیں کبھی ایک بار آنکھوں میں ‘‘
گلاب و موگرا، جوہی، چنبیلی اور چمپا ترے ہی دم سے ہے پھیلی بہار آنکھوں میں ’’ترا ہی جلوا ہے ان بے شمار آنکھوں میں ‘‘
اِسی میں تو عاشق کو حاصل مزا ہے فنا اِس میں جو ہو اُسے ہی بقا ہے ’’ترا دردِ اُلفت ہی دل کی دوا ہے‘‘
نورِ قادرِ مطلق آقا دور ہوا سب تجھ سے اندھیرا ’’تیرے دم سے عالم چمکا ‘‘
’’اے سحابِ کرم اک بوند کرم کی پڑ جائے‘‘ سوکھی کھیتی میں جو شادابیاں لے کر آئے دور ہو جائے ہر اک رنج و الم کی صورت ’’صفحۂ دل سے مرے محو ہو غم کی صورت‘‘
ظلمتِ مرقد میں پھیلے روشنی ہی روشنی تم جو ہو جلوا نما مہرِ عجم ماہِ عرب ’’رُخ سے پردا دو ہٹا مہرِ عجم ماہِ عرب‘‘
وہ جو قسمت سے درِ پاک کا درباں ہو گا ہاں ! وہی سب سے بڑا دہر میں شاداں ہو گا ’’اپنی خوش بختی پہ وہ کتنا نہ نازاں ہو گا‘‘
اے میرے حُسنِ والضحیٰ ماہِ عجم مہرِ عرب ہے دل مرا ظلمت زدا ماہِ عجم مہرِ عرب ’’دے دو مرے دل کو جِلا ماہِ عجم مہرِ عرب‘‘