’’کُن کا حاکم کر دیا اللہ نے سرکار کو‘‘
مالکِ کل کر دیا اللہ نے سرکار کو ہے جلالِ بے نہایت آپ کے دربار کا ’’کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا‘‘
معلیٰ
مالکِ کل کر دیا اللہ نے سرکار کو ہے جلالِ بے نہایت آپ کے دربار کا ’’کام شاخوں سے لیا ہے آپ نے تلوار کا‘‘
ہیں وہی لاریب! جن و انس کے حاذِق طبیب پل میں رنج و غم مٹا، سب شاہ کے بیمار کا ’’جب تصور میں سمایا روئے انور یار کا‘‘
کُن نگاہے لطف و رافت سوے جملہ سُنّیاں حال ابتر ہو رہا ہے آپ کے بیمار کا ’’کوئی بھی پُرساں نہیں ہے مجھ سے بد کردار کا‘‘
الطاف و عنایت کا طالب ہوں شہا کب سے جلووں سے چمک جائے اِس دل کا نہاں خانہ ’’تا حشر رہے ساقی آباد یہ مَے خانہ‘‘
عیاں زمانے پہ آقا تمہاری شوکت ہے جو شاخ لڑنے کو دو، تیغ سر بہ سر ہو جائے ’’جو چاہو تر ہو ابھی خشک، خشک تر ہو جائے ‘‘
حُسنِ والشمس کی کس چیز سے تشبیہ کروں جُز خدا وصف میں انسان پریشاں ہو گا ’’آئینہ بھی تو تمہیں دیکھ کے حیراں ہو گا‘‘
نبی کے عشق و الفت کے ہو تم اک رہِ نما نوریؔ کہ باغِ نعت کے اک بلبلِ شیریں بیاں تم ہو ’’سخن سنج و سخن ور ہو سخن کے نکتہ داں تم ہو‘‘
جوانی کی عبادت ہے یقیناً باعثِ عزّت مخاطب خود سے ہو کر کہتے ہیں سب کو، کہاں تم ہو؟ ’’جو کچھ کرنا ہو اب کر لو ابھی نوریؔ جواں تم ہو‘‘
مدینے کی حاصل ہمیں ہو حضوری دل و جان سب اُس پہ وارا کروں میں ’’مدینے کی گلیاں بُہارا کروں میں ‘‘
’’ گرفتارِ بلا حاضر ہوئے ہیں ٹوٹے دل لے کر ‘‘ کرم فرمائیے شاہِ مدینہ ہم گداؤں پر مداوائے غمِ دوراں شہِ خیر الورا تم ہو ’’ کہ ہر بے کل کی کل ٹوٹے دلوں کا آسرا تم ہو ‘‘