’’تلاطم کیسا ہی کچھ ہو مگر اے ناخدائے من‘‘
وہ تھم جائے تصور سے آقا آپ کے فوراً معاون خود ہماری تیز تر منجدھار ہو جائے ’’اشارا آپ فرما دیں تو بیڑا پار ہو جائے‘‘
معلیٰ
وہ تھم جائے تصور سے آقا آپ کے فوراً معاون خود ہماری تیز تر منجدھار ہو جائے ’’اشارا آپ فرما دیں تو بیڑا پار ہو جائے‘‘
اُسی کی طاری رہے جان و دل میں مخموٗری ہو جس سے پیدا سروٗر و بہار آنکھوں میں ’’رہے ہمیشہ اُسی کا خمار آنکھوں میں ‘‘
اشارے سے تمہارے چاند بھی ہو جائے دو ٹکڑا کنواں میٹھا، جو چاہو تو شہِ ابرار ہو جائے ’’جو تم چاہو کہ شب دن ہو ابھی سرکار ہو جائے‘‘
گلوں میں، لالہ زاروں میں، چمن میں مرغ زاروں میں یقیناً باعثِ تزئینِ گلِستاں بوستاں تم ہو ’’بہاروں میں نہاں تم ہو بہاروں سے عیاں تم ہو‘‘
’’وہ گل ہیں لب ہائے نازک اُن کے ، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے‘‘ تبسم ایسا کہ ہنس دیں روتے، تکلم ایسا فصیح ہوں گونگے نبیِ رحمت کا حُسنِ نمکیں، کہاں شمار و حساب میں ہے ’’گلاب گلشن میں دیکھے بلبل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے‘‘
تیرے صدقے پا لیا سب نے خزیٖنہ نوٗر کا ہر گلِ تر نوٗر کا ہر ذرّہ ذرّہ نوٗر کا ’’تُو ہے عینِ نوٗر تیرا سب گھرانا نوٗر کا‘‘
تجھ پہ طاری ہے یہ کہاں کی دُھن دُزدِ ایماں ہزار پھرتے ہیں ’’مال ہے راہ مار پھرتے ہیں ‘‘
’’ اُن دو کا صدقہ جن کو کہا پھول ہیں مرے ‘‘ شبّابِ اہلِ خلد ہیں فرمانِ شاہ سے شاداب جن سے دینِ مبیں کا جمالِ گل ’’کیجے رضاؔ کو حشر میں خندہ مثالِ گل‘‘
حالِ دل شاہِ مدینہ کو سنا نے کو نہ دیا جالیِ پاک کو آنکھوں میں بسا نے نہ دیا ’’چشم و دل سینے کلیجے سے لگا نے نہ دیا‘‘
دُنیائے علم و فن میں ہے شان تیری محکم عشقِ شہِ دَنا کے دریا بہا دئیے ہیں ’’جس سمت آ گئے ہو سکّے بٹھا دئیے ہیں ‘‘