’’لا وربِّ العرش جس کو جو مِلا اُن سے مِلا‘‘
نعمتوں کے با خدا قاسم ہیں پیارے مصطفا ہے ہر اک انسان کو حاجت رسول اللہ کی ’’بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی‘‘
معلیٰ
نعمتوں کے با خدا قاسم ہیں پیارے مصطفا ہے ہر اک انسان کو حاجت رسول اللہ کی ’’بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی‘‘
تیری اُلفت کی چبھن میں ہے ملی غم کی دوا اپنا غم دے دے مرے سرورِ خوباں ہم کو ’’اے ملیحِ عَرَبی کر دے نمک داں ہم کو‘‘
’’ سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہو جائے ‘‘ دوٗر نقصان و زیاں شاہِ اُمم ہو جائے کشتِ بے نخل کی قسمت کو سنوارے گیسو ’’ چھائیں رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو ‘‘
ظلمتِ مرقد میں روشن ہوں گے بُقعے نوٗر کے زیرِ لب جاری رہے مدحت رسول اللہ کی ’’جلوہ فرما ہو گی جب طلعت رسول اللہ کی‘‘
کونین میں ہے چار سوٗ تیرا ہی ذکر صبح و شام واصف ترا مرے نبی، خلّاقِ دو جہان ہے ’’کان جدھر لگائیے تیری ہی داستان ہے‘‘
سوٗرج اُلٹے پاوں پلٹے، ٹوٹی ہڈی بھی جڑیں سر سے پا تک معجزہ ذاتِ شہِ ابرار ہے ’’بارک اللہ مرجعِ عالم یہی سرکار ہے‘‘
ہیں ہم بھی شہِ دیں طلب گارِ برکت بلائیں ہمیں کہہ کے او جانے والے ’’بدوں پر بھی برسا دے برسا نے والے‘‘
مکینِ خلد وہ ہو گا، جو اِن کے در پہ مِٹا جو راہِ حق کے یہ روشن چراغ لے کے چلے ’’وہ کیا بہک سکے جو یہ سراغ لے کے چلے‘‘
اُن کے احسان سے طیبہ کو سفینے پہنچے جسم ہے ہند میں طیبہ کو دل و جان گیا ’’تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا‘‘
لب پہ ہو ہر صبح و مسا، نغمۂ نعت ہی سجا ہیں دردِ دل کی جو دوا، دل اُن کو بھول پائے کیوں ’’جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اُٹھائے کیوں ‘‘