’’انا اعطینٰک الکوثر‘‘
’’انا اعطینٰک الکوثر‘‘ ان کا اجارا ہر اک شَے پر مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں ’’ساری کثرت پاتے یہ ہیں ‘‘
معلیٰ
’’انا اعطینٰک الکوثر‘‘ ان کا اجارا ہر اک شَے پر مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں ’’ساری کثرت پاتے یہ ہیں ‘‘
قسم رب کی دشمن سے نہ رُک سکے گا مٹیں گے سبھی کینہ پھیلا نے والے ’’پڑے خاک ہو جائیں جل جانے والے‘‘
بروزِ حشر رنج و غم کے طوفاں سے نہ گھبرانا ہے زیبا تاج شاہِ دیں کو اُمّت کی شفاعت کا ’’کبھی تو ہاتھ آ جائے گا دامن اُن کی رحمت کا‘‘
’’ ہے یہ اُمید رضاؔ کو تری رحمت سے شہا‘‘ ہاں ! تری چشمِ عنایت و شفاعت سے شہا نہ ہو حیران سرِ حشر وہ شیدا ہو کر ’’ کیوں ہو زندانیِ دوزخ ترا بندا ہو کر ‘‘
لہلہا اُٹّھے ہیں جن سے سنیت کے گلستاں وجد میں مصروٗف ہر سوٗ لالہ و گل زار ہے ’’ کیوں نہ ہو کس پھول کی مدحت میں وا منقار ہے ‘‘
وجد میں ہیں گل و لالہ و چمن زار و بہار مدح گوئے شہِ والا ترا کہنا کیا ہے ’’بلبلِ باغِ مدینہ ترا کہنا کیا ہے‘‘
ہے یہ میری زیست کا مدعا، کہ ہو لب پہ نغمۂ مصطفا جو ہر اک کی کرتا پھرے ثنا، مرے منہ میں ایسی زباں نہیں ’’میں گدا ہوں اپنے کریم کا، مرا دین پارۂ ناں نہیں ‘‘
رنج و غم، آلامِ دوراں کی تمازت سے نہ ڈر بن کے رحمت سر پہ ہوں گی سایہ گُسترایڑیاں ’’شاد ہو ہیں کشتیِ اُمّت کو لنگر ایڑیاں ‘‘
کون ہے جس نے نہ پایا کبھی، صدقا تیرا سارے داتاؤں میں ہے طَور نرالا تیرا ’’نہیں‘‘ سُنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا‘‘
اِس خاک کی اُس خاک میں ہو کاش سمائی جس خاک میں مدفوں شہِ والا ہے ہمارا ’’آباد رضاؔ جس پہ مدینہ ہے ہمارا‘‘