وہ جس تجلی سے پھُوٹا ہے زندگی کا سراغ
اسی کی ضَو سے درخشاں ہے آگہی کا سراغ بہ فیضِ عشقِ محمد یہ سلسلہ ہُوا ہے وگرنہ خاک پہ ہوتا نہ آدمی کا سراغ بڑے وثوق سے پیغمبروں نے دی ہے نِوید سو آئنہ تھا ازل سے مرے نبِی کا سراغ نظر نواز ہے واں حسنِ جادہءِ سیرت جہاں پہ خُو کو میسر ہے […]