کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف

صد برگِ عشق رکھا ہے میں نے ، بجائے حرف رحمت کی اک نوید تھا ہر لختِ لفظِ کُن منظر نمائے خیر تھی گویا ، صدائے حرف قرطاس پر اُتَرنے کو بے تاب ہیں خیال آقا کریں قبُول تو خامہ ، سجائے حرف تاباں ہے ایسے مدح نگاری میں سطر سطر ہر لفظ نے لگائی […]

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد وثمود

ہماری بستیاں کیوں ہوں مثالِ عاد و ثمود ثنا کی گونج گھروں میں لبوں پہ وردِ درُود متاعِ مال ہو اولاد ہو کہ خواہشِ عیش نثار ان کی رضا پر تمام دولتِ بود مرے پڑے تھے جہالت کے اندھے کہروں میں سو پھر سے آپکی آمد نے کی ہماری نمود کلیدِ فکرِ سخن ہے ثنائے […]

جمالِ عرشِ معلیٰ بِنائے ہفت اقلیم

سلام تجھ پہ ہزاروں، حبیبِِ ربِّ کریم نگارِ شعر پہ صد برگ کھلنے والے ہیں خیالِ نعت کو چھُو کر گئی ہے بادِ شمیم فرازِ عرش پہ بیری کا پیڑ لام کی حد پھر اس کے آگے ہیں تا لامکاں الف اور میم جبین مانگتی ہے جس کے نعل کی مٹی سلام کرتا ہے اس […]

بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے

گھر نہیں جاتا وہ کافر جو ترے درسے اُٹھے اک تجلی سے ہوا حسنِ تجلی کا ظہور اور پھر سارے نظارے اسی منظر سے اُٹھے اسی بھائی کو لقب سجتا ہے مولائی کا جو ترے کاندھوں پہ بیٹھے ترے بستر سے اُٹھے کتنے حاکم تھے جو پہنچے نہ تری گرد تلک کتنے عالم تری قامت […]

وصف یہ بھی ہے مرے مولا تجھی کو زیبا

اپنے محبوب کو تخلیق کیا سب سے جدا تیری قدرت کو عیاں کرتا ہےدشتِ خاموش تیری تسبیج بیاں کرتا ہے بہتا دریا کیوں نہ فی احسنِ تقویم پہ قرباں جائیں شکر صد شکر کہ مٹی سے ہمیں پیدا کیا تو کہ پردوں کے جزیروں میں کہیں پنہاں تھا ہم کو اس دل کے سمندر سے […]

معبودِ حقیقی

نہیں معبود کوئی بس اک اللّٰہ معبودِ حقیقی ہے چراغِ نور ہو جیسے کسی قندیل کے اندر رکھا ہو ایک شیشے کے کنول میں وہ ہے شیشے کا کنول شفاف مثلِ کوکبِ پُر نور وہ روشن روغن زیتون سے ہے جو مبارک اک شجر ہے ہے اس کی روشنی مشرق کی جانب اور نہ ہی […]

تو میری سوچ کے پودے کو اک شجر کر دے

دعا یہ ہے مرے لہجے کو معتبر کر دے صدف میں فکر و تخیل کے میں مقید ہوں مثالِ قطرہ ہوں برسوں سے اب گہر کر دے صلیب و دار و رسن ہی مرا مقدر ہے سفر کٹھن ہے کوئی مرا ہم سفر کر دے بچا لے شر کی تباہی سے تو مجھے یا پھر […]

ربِّ کائنات

وہ ابتدا، وہ انتہا وہی عیاں، وہی نہاں وہ قادر و حکیم ہے رحیم ہے، کریم ہے سمیع اور بصیر ہے علیم ہے، خبیر ہے وہ نورِ ارض و آسماں، وہ ربِّ کائنات ہے عیوب سے منزّہ اور مصفّا اس کی ذات ہے مقیم ہے وہ عرش پر، بجا یہ بات ہے ، مگر رگِ […]

گھر چکا ہوں میں گناہوں میں خدا

لے لے تو اپنی پناہوں میں خدا کر حفاظت کہ بہت ہی کم ہے روشنی میری نگاہوں میں خدا استقامت دے عزائم کو مرے خار ہی ہیں راہوں میں خدا کر عطا اپنی محبت مجھ کو گم ہے دل من کے اِلاہوں میں خدا دے ہدایت کہ خوشی ملتی ہے بدعت و شرک کی باہوں […]

رحمتِ الٰہی

تیری رحمت ہے سب کو گھیرے ہوئے صبحِ صادق کا چہرۂ خنداں شامِ رنگیں کا جلوۂ محجوب فرش کی طرح سے بچھی یہ زمیں احمریں مہر یہ چمکتا ہوا جگمگاتا یہ ماہتابِ حسیں مسکراتے یہ انجمِ تاباں بادِ صرصر کی شوخیِ پیہم بحر، دریا، ندی کا آبِ رواں کوہساروں کے سلسلوں کا سماں سب میں […]