کیسے نہ بیتِ نعت میں خوشبو رچائے حرف
صد برگِ عشق رکھا ہے میں نے ، بجائے حرف رحمت کی اک نوید تھا ہر لختِ لفظِ کُن منظر نمائے خیر تھی گویا ، صدائے حرف قرطاس پر اُتَرنے کو بے تاب ہیں خیال آقا کریں قبُول تو خامہ ، سجائے حرف تاباں ہے ایسے مدح نگاری میں سطر سطر ہر لفظ نے لگائی […]