سر جھکایا قلم نے جو قرطاس پر پھول اس کی زباں سے بکھرنے لگے
مدحتِ مصطفےٰ تیرا احسان ہے تجھ سے کیا کیا مقدر سنورنے لگے یہ تو ان کی عنایات کی بات ہے ورنہ کیا ہوں میں کیا میری اوقات ہے جس کا دنیا میں پرسان کوئی نہ تھا اس کے دامن میں تارے اترنے لگے یونہی مجھ پر کرم اپنا رکھنا سدا اے مرے چارہ گر اے […]