میرے آقا مدینہ بلا لو میرے دل کی یہی التجا ہے

اپنا نورانی روضہ دکھا دو میرے دل کی یہی التجا ہے دیکھ لوں میں بھی گنبد تمہارا، آنکھ میں بھر لوں منظر وہ سارا اذن طیبہ کا آقا عطاء ہو میرے دل کی یہی التجا ہے جس کو جو کچھ جہاں سے ملا ہے، سب کو تم نے ہی آقا دیا ہے نعت کہنے کا […]

نبی سے محبت ہے ایمان کامل

یہی ہے مرا عہد و پیمان کامل نبی کی ہو توہیں گوارا نہیں ہے یہی تو ہے مومن کی پہچان کامل جو شان رسالت پہ جاں تک لٹا دے وہی در اصل ہے مسلمان کامل نبی سے محبت کی تکمیل یہ ہے کہ قربان ہو اس پہ ہر جان کامل جسے ہو گئی ہے نبی […]

اے کاش ایک ایسی مدینے کی شام ہو

آئی قضا ہو زیست کی عمریں تمام ہو دہلیزِ عشق پر رہوں دم توڑتا رہوں پیشِ نظر وہ روضۂ خیر الانام ہو آنکھوں میں لے کے جاؤں بسا روضۂ رسول تاکہ لحد میں میرا کوئی احترام ہو وقتِ اجل ہاں کلمۂ طیب سے پیشتر وردِ زباں بھی کاش درود و سلام ہو ہو جاؤں دفن […]

لو لگا پیارے نبی سے شاہوں کے دربار چھوڑ

واسطہ رکھ بس انھیں سے نسبت اغیار چھوڑ سرفرازی دونوں عالم کی اگر مطلوب ہے بن گدائے مصطفے اور خواہش دستار چھوڑ تجھ کو مل جائے گی جنت یہ مرا ایمان ہے پیروی کر مصطفے کی سیرت اغیار چھوڑ پیار کرنا تو ہمیشہ احمد مختار سے جس کو ہو ان سےعداوت اس سے کرنا پیار […]

شرح مزمل ہیں طہٰ آپ ہیں

خوب رو حسن سراپا آپ ہیں بے بسوں کے بس سہارا آپ ہیں خلق میں بے مثل و یکتا آپ ہیں جن سے پھیلی ہے ضیا اس دہر میں بالیقیں وہ نور والا آپ ہیں ہے زباں پر سب کے چرچا بس یہی انبیاء میں سب سے اعلیٰ آپ ہیں جس کے حصے میں ہیں […]

ہر جگہ اہل ایمان غالب رہے

فتح جاں اور اس کے یہ قالب رہے وار پہ وار کرتا رہا غم مگر ان کے فیض و کرم میری جانب رہے شرعِ کی روشنی میں جو چلتا رہا اس کے اقدام سارے مناسب رہے جو عمل مصطفے سے نہ چھوٹے کبھی تا قیامت وہ امت پہ واجب رہے لگ گۓ چار چاند اس […]

ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا

ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہو گیا اغنیا کے درمیاں سب سے تونگر ہو گیا مل گیا جس روز سے ان کی غلامی کا شرف اوج پر اس روز سے میرا مقدر ہو گیا ہو گئی جس پر کرم کی اک نظر واللہ وہ گر وہ قطرہ تھا تو پھر بڑھکر […]

آنکھ گنبد پہ جب جمی ہوگی

آنکھ گنبد پہ جب جمی ہو گی دل کی دنیا بدل گئی ہو گی لب پہ ڈالی درود کی رکھنا جب مدینہ روانگی ہو گی لو لگاؤ گے جب مدینے سے رشک مہتاب زندگی ہو گی جامِ کوثر ہی پینے کی خاطر دَورِ محشر میں تشنگی ہو گی جو مرا بغض مصطفیٰ لے کر رد […]

قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی

قلبِ مضطر کے لیے ایک دَوا کافی ہے لب پہ بس صلِّ علیٰ، صلِّ علیٰ کافی ہے مالکِ کون و مکاں قاسمِ نعمت ہیں جو ہم فقیروں کے لیے ان کی عَطا کافی ہے آتے ہی ساری بلائیں مری ٹل جاتی ہیں اِن بلاؤں کے لیے ماں کی دُعا کافی ہے حدت حشر کا کچھ […]

ہو لب پر میرے بس نغمہ نبی کا

یہی ہے ماحصل اس زندگی کا نہ ہو مقصود شاہ دیں کی مدحت نتیجہ کیا ہے ورنہ شاعری کا جہاں جانے کی ہے سب کی تمنا مدینے میں ہے وہ روضہ نبی کا بٹھا لوں ماں کو میں پلکوں پہ پھر بھی نہ ہوگا حق ادا اس زندگی کا جہاں جاؤ گے پاؤ گے انہیں […]