عمَل جو "​فَحَدِّث” پہ کرتا رہے گا

بَلندی پہ اسکا نصیبہ رہے گا ہے "​تِلْکَ الرُّسُل” میں یہ "​فَضَّلْنَا” شاہد تُو نبیوں میں اعلیٰ تھا اعلیٰ رہے گا وَمَایَنْطَقُ” سے ہے واضح یہ بالکل”​ جُدا میرے آقا کا لِہجَہ رہے گا ”ملے گا جسے فیضِ "​مَنْ زَار قَبرِی تو سر اس کے جنت کا مُژدہ رہے گا جسے صدقہ مل جاۓ "​فَلیَفْرَحُوا” […]

حبِّ دنیا کو عشقِ احمدی بنا ڈالیں

کیوں نہ ہم فقیری کو خسروی بنا ڈالیں رحمتِ دوعالم پر ہم درود پڑھ پڑھ کے زیست کے اندھیرے کو روشنی بنا ڈالیں اپنی ذاتِ کمتر کو، اپنی ذات کمتر کو نسبتِ پیمبَّر سے قیمتی بنا ڈالیں مدحتِ خدا سے ہم دل کو تازگی بخشیں سیرتِ شہہ دیں سے زندگی بنا ڈالیں آج بھی مرے […]

اے خالقِ کل سامنے اک بندہ ترا ہے

تو کر دے عطا تجھ سے یہ کچھ مانگ رہا ہے تو مالک و معبود بھی مسجود بھی تو ہے میں جو بھی ہوں جو کچھ بھی ہوں سب تجھ کو پتا ہے احباب مرے کتنے ترے پاس گئے ہیں تو بخش دے ان سب کی خطائیں یہ دعا ہے ہم مانتے ہیں حد سے […]

حضور ! آپ کی فرقت رلائے جاتی ہے

حضور ! وصل کی چاہت ستائے جاتی ہے حضور ! جب غم ہستی سے میں بلکتا ہوں حضور ! آپ کی الفت ہنسائے جاتی ہے حضور ! اب تو مجھے آپ کی زیارت ہو حضور ! دید کی حسرت تپائے جاتی ہے حضور ! آپ کی زلفِ دوتا کا کیا کہنا دل و دماغ کو […]

جمال و حسن کا طُغریٰ ہے آپ کی چوکھٹ

بَہارِ خلد کا نقشہ ہے آپ کی چوکھٹ ہر ایک غم کا مداوا ہے آپ کی چوکھٹ دُکھے دلوں کا سہارا ہے آپ کی چوکھٹ قدم قدم پہ بَہاروں کا عنبریں جھونکا جمالِ صبحِ دل آرا ہے آپ کی چوکھٹ فرشتے چومتے ہیں سنگِ در عقیدت سے کچھ ایسی افضل و اعلیٰ ہے آپ کی […]

نہ دوزخ یاد آتا ہے نہ جنت یاد آتی ہے

بروز حشر آقا کی شفاعت یاد آتی ہے یہی ہے آرزو اک روز میں جاؤں مدینے کو *حبیبِ داور محشر کی تربت یاد آتی ہے * لٹایا گھر کا گھر جس نے نبی کے دین کی خاطر ہمیں اس ابن حیدرؓ کی شہادت یاد آتی ہے دعا دیتے تھے سن کر گالیاں اپنے مخالف کی […]

رسولِ خدا کی ثنا لکھ رہا ہوں

یوں بیمار دل کی دوا لکھ رہا ہوں نہ چھیڑو مجھے تم ابھی تو نبی کے تبسّم پہ میں تبصرہ لکھ رہا ہوں جو جامِ شہادت پئے کربلا میں انہیں زندہ یوں ہی سدا لکھ رہا ہوں درودوں کی ڈالی لبوں پر سجا کے میں نعتِ شہِ انبیا لکھ رہا ہوں رسول خدا آپ کا […]

رسول اعظم نبی رحمت درود تم پر سلام تم پر

رسول اعظم ، نبی رحمت ، درود تم پر سلام تم پر شفیع مطلق ، شفیق امت ، درود تم پر سلام تم پر تمہارے آنے سے میرے آقا جہاں میں تابندگی ہوئی ہے مٹے ہیں واللہ کفر و ظلمت درود تم پر سلام تم پر حضور سجدے میں جا کے بولے محبتوں کے بھی […]

ہے چُبھن مستقل قرار کے ساتھ

پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ صبح کا انتظار ہے لیکن بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ خواہشِ باغباں ہے یہ شاید زرد رُت بھی رہے بہار کے ساتھ میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ پیڑ نعمت بدست و سرخم ہیں ہے تفاخر بھی انکسار کے ساتھ