حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں
کہ ہے سدرہ تمہاری رہگذر میں یہ کس کا نقشِ پا سایا فگن ہے ہوئی یہ گفتگو شمس و قمر میں فرشتہ راستے میں رُک کے بولا نہیں اب قوتِ پرواز ، پَر میں ترا نام عرشِ اعظم پر لکھا ہے تری مدحت کتابِ معتبر میں بشر لکھنا بھی چاہے ، لکھ نہ پائے ہیں […]