طیبہ میں جاکے گلشن و گلزار دیکھئے

طیبہ میں جا کے گلشن و گلزار دیکھئے ماتھے کی آنکھ سے در و دیوار دیکھئے کاسہ لئے کھڑے ہیں جہاں باادب سبھی کتنا حسیں وہ اعلٰی ہے دربار دیکھئے ہوگا انہیں کا داخلہ جنت میں روز حشر کرتے ہیں مصطفی سے جو بھی پیار دیکھئے دیوارِ ظلم و کفر کو ڈھانے کے واسطے آئے […]

والقمر والضحی پڑھا کیجیئے

پڑھ نہیں سکتے تو سنا کیجیئے ان کی الفت میں ہی رہا کیجیئے مدحت شاہ انبیاء کیجیئے جس جگہ تذکرہ ہو آقا کا باادب بیٹھ کر سنا کیجیئے جو گرفتارِ عشقِ احمد ہے وہ یہ کہتا نہیں” رہا کیجیئے لکھ سکوں نعت آپکی جس سے وہ قلم یا نبی عطا کیجیئے وہ سنا کرتے ہیں […]

محبوب کردگار کی رفعت تو دیکھئے

اک پل میں پہونچے عرش پر سرعت تو دیکھئے جن و ملائک انس بھی ہوتے ہیں فیضیاب خلق خدا پر ان کی عنایت تو دیکھئے ستر صحابہ دودھ سے سیراب ہوگئے دست رسول پاک کی برکت تو دیکھئے ہم سے گنہگار بھی جائیں گے خلد میں *محشر میں ان کی شان شفاعت تو دیکھئے* سجدے […]

جس کے دل میں ہے شہ دیں کی محبت آباد

مستقل اس میں رہی رب کی عنایت آباد جس کے روحانی عزائم ہوں بلند و بالا کیوں نہ ہو اس میں لطافت ہی لطافت آباد ہو میسر ہمیں سرمایۂ تسلیم و رضا ہم میں ہو جائے اگر ذوق عبادت آباد بابِ اصلاح اس انساں کے لیے ہے مسدود جس کی سوچوں میں ازل سے ہے […]

اُس قامتِ زیبا پہ جو مائل نہیں ہوتا

کچھ اور ہی ہوتا ہے وہ دل ، دل نہیں ہوتا توفیقِ ثنا اُن کا کرم ، اُن کی عطا ہے ہر اہلِ سُخن نعت کے قابل نہیں ہوتا اے رُوحِ سفر ! اہلِ سفینہ پہ نظر ہو ساحل جو نظر آتا ہے ، ساحل نہیں ہوتا اک نام نگہبان ہو ، اک ورد محاٖفظ […]

پردۂ ہجر نگاہوں سے سرکتا دیکھوں

آخرِ شب مہِ طیبہ کو چمکتا دیکھوں ہر نئی شام نیا رنگِ تمنا لائے شوقِ دیدار کے غنچوں کو چٹکتا دیکھوں سبز گنبد مری آنکھوں میں سمائے ایسے آنسوؤں میں بھی یہی رنگ جھلکتا دیکھوں یاد آئیں مجھے اُس دانشِ کُل کی باتیں جب کسی دور کے انساں کو بھٹکتا دیکھوں ایک اعزاز ہے اُس […]

حُبِ احمد کا صلہ بولتا ہے

اب یہ محرومِ نوا بولتا ہے قبر میں پوچھ یہی ہے کہ کوئی آپ کے بارے میں کیا بولتا ہے سب صحابہؓ ہمہ تن گوش ہوئے سرور ہر دوسرا بولتا ہے اس فصاحت پہ فصاحت قربان وہ زمانے سے جُدا بولتا ہے میرے محبوب قدم رکھتے ہیں راستہ صلِّ علیٰ بولتا ہے اُذنُ مِنّی کی […]

ہے کلامِ خدا ، کلامِ حضور

ماورائے گماں ، مقامِ حضور جان لیوا تھے غم زمانے کے دل دھڑکتا رہا بنامِ حضور انبیا اُن کے مقتدی ٹھہرے سب پہ لازم ہے احترامِ حضور آبروئے سُخن ہے نعتِ رسول اعتبارِ سُخن ہے نامِ حضور جب بھی نامہرباں ہوئے حالات آ گیا ہے زباں پہ نامِ حضور مٹ گئیں ساری ظلمتیں اخترؔ ایسے […]

بہ صد نیاز ، بہ صد احترام آیا ہے

مرے لبوں پہ محمد کا نام آیا ہے وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ ناز کرتے ہیں نبی کے شہر سے جن کو پیام آیا ہے بہ فیضِ چشمِ تصور ، فراق موسم میں حضور آپ کے در پر غلام آیا ہے مہک رہا ہے جو روضے کی جالیوں کے قریب صبا کے ہاتھ کسی کا […]

مظہرِ قدرت باری صورت

مظہرِ قدرت باری صورت روحِ کونین وہ پیاری صورت رونقِ جشنِ بہاراں کے لیے حق نے گلشن میں اتاری صورت جس مصور نے بنایا تم کو دیکھتا ہے وہ تمہاری صورت وجہِ تخلیق دو عالم تم ہو نقشِ اول ہے تمہاری صورت حشر میں شافعِ امت کے سوا کون دیکھے گا ہماری صورت