عدن بنا گیا مسجد کو اپنے سجدوں سے

مکینِ خاص مدینے کی اک گلی والا بڑے ادب سے اُس اُمّی لقب کے قدموں میں قلم بھی رکھتا ہے قرطاس عاجزی والا سخن تو حسبِ مراتب نہیں ظہیرؔ کے پاس درودِ سادہ ہے لیکن یہ شاعری والا الٰہیٰ جب بھی فرشتے پڑھیں صلوٰۃ و سلام مرا سلام بھی پہنچے یہ بے بسی والا بنا […]

وہ ایک شخص دو عالم کی سروری والا

شعور دے گیا شاہوں کو سادگی والا ہزاروں چاند ستارے وہ کر گیا روشن وہ اک چراغ تھا سورج کی روشنی والا وہ مُہر ختمِ نبوت، وہ حرفِ آخرِ حق وہ اک رسول رسولوں میں آخری والا قریبِ عرش خدا سے وہ محوِ راز و نیاز زمیں پہ نقشِ اطاعت وہ بندگی والا نگار خانۂ […]

مجھ کو درونِ ذات کا نقشہ دکھائی دے

آئینہ وہ دکھاؤ کہ چہرہ دکھائی دے آدابِ تشنگی نے سکھائے ہیں وہ ہنر پیاسے کو مشتِ خاک میں کوزہ دکھائی دے ایسی رہی ہیں نسبتیں دیوارِ یار سے کوئے ستم کی دھوپ بھی سایا دکھائی دے ہر لب پہ حرفِ وعظ و نصیحت ہے شہر میں ہر شخص آسمان سے اُترا دکھائی دے افشاں […]

دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا

سنگِ ارزاں تہِ بنیاد نہیں آئے گا دن نکلتے ہی بُھلا دوں گا میں اندیشۂ روز سرحدِ صبح میں شب زاد نہیں آئے گا ایسے اک طاقِ تمنا پہ رکھ آیا ہوں چراغ بجھ گیا بھی تو مجھے یاد نہیں آئے گا حسنِ خود دار کو اِس دورِ خود آرا میں بہم ہنر مانی و […]

آنکھوں میں ہوں سراب تو کیا کیا دکھائی دے

پانی کے درمیان بھی صحرا دکھائی دے بینائی رکھ کے دیکھ مری، اپنی آنکھ میں شاید تجھے بھی درد کی دنیا دکھائی دے دنیا نہیں نمائشِ میکانیات ہے ہر آدمی مشین کا پرزہ دکھائی دے آدم غبارِ وقت میں شاید بکھر گیا حوّا زمینِ رزق پہ تنہا دکھائی دے ق جس انقلابِ نور کا چرچا […]

اُجلی ردائے عکس کو میلا کہیں گے لوگ

آئینہ مت دکھائیے، جھوٹا کہیں گے لوگ شاخیں گرا رہے ہیں مگر سوچتے نہیں پھر کس شجر کی چھاؤں کو سایہ کہیں گے لوگ واقف ہیں رہبروں سے یہ عادی سراب کے دریا دکھائیے گا تو صحرا کہیں گے لوگ شہرت کی روشنی میں مسلسل اُچھالئے پتھر کو آسمان کا تارا کہیں گے لوگ آغازِ […]

چراغِ شام جلا ہے کہ دل جلا کوئی

حصارِ ضبطِ فغاں سے نکل چلا کوئی نہ کوئے یار میں آوارہ کوئی دیوانہ نہ بزمِ یار میں باقی ہے منچلا کوئی بدل گیا ہے سراسر مزاجِ اہلِ جنوں نہ شوقِ مرگ نہ جینے کا ولولہ کوئی سلامت آ گئے مقتل سے غازیانِ عشق نہ سر گرے ہیں نہ خیمہ کہیں جلا کوئی عجیب راہئ […]

سخن رہے گا، سخنور بھی کم نہیں ہوں گے

یہ اور بات ہے کاغذ قلم نہیں ہوں گے ملے گا شورِ ستائش تو شعر خوانوں کو سخن شناس کنائے بہم نہیں ہوں گے جو چل بھی جائے نظر پر طلسمِ نقش و نگار حروفِ خام تو دل پر رقم نہیں ہوں گے مذاقِ شعر بدل دے گا جب مزاجِ ہنر خدا کا شکر ہے […]

ہواؤں کی زد پہ دیا زندگی کا

وطیرہ یہ ہم نے رکھا زندگی کا عدم سے ملا ہے سرا زندگی کا مکمل ہوا دائرہ زندگی کا یہ آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں پھر جب آگے سے پردہ ہٹا زندگی کا ستم بھی دکھائے سبھی تیرے غم نے سلیقہ بھی مجھ کو دیا زندگی کا خبر کوئی کر دے دلِ بے خبر […]

گھر بسانے کی تمنا کوچۂ قاتل میں ہے

زندگی مصروف اک تحصیلِ لاحاصل میں ہے شورِ طوفاں قلقلِ مینا ہے پیاسوں کے لئے اک پیالے کی طرح ساگر کفِ ساحل میں ہے چاک کو دیتے ہیں گردش دیکھ کر گِل کا خمیر اک پرانی رسم ہم کوزہ گرانِ گِل میں ہے مرکزِ دل سے گریزاں ہے محیطِ روزگار دائرہ کیسے بنے، پرکارِ جاں […]