میں اشکبار ہوں نا ممکنہ کی خواہش میں

میں اشکبار ہوں ناممکنہ کی خواہش میں نمک مثال گھلے جا رہا ہوں بارش میں دیا ہے میں نے ہی دشمن کو وار کا موقع مرا بھی ہاتھ ہے اپنے خلاف سازش میں خمارِ شام، غمِ تیرگی، امیدِ سحر عجیب عکس ہیں بجھتے دیئے کی تابش میں بجا ہے طعنۂ باطل مری دلیلوں پر ہزار […]

چُبھی ہے دل میں وہ نوکِ سنانِ وہم و گماں

ہوا ہے نقشِ سویدا نشانِ وہم و گماں میں ایک سایۂ لرزاں ہوں ہست و نیست کے بیچ مرا وجود ہے بارِ گرانِ وہم و گماں نہ کھا فریب خریدارِ رنگ و بوئے چمن محیطِ صحنِ چمن ہے دکانِ وہم و گماں قدم قدم پہ ہے دامن کشاں یقینِ بہار روش روش پہ ہویدا خزانِ […]

قریۂ سیم و زر و نام و نسب یاد آیا

پھر مجھے ترکِ تعلق کا سبب یاد آیا ہجر میں بھول گئے یہ بھی کہ بچھڑے تھے کبھی دور وہ دل سے ہوا کب، ہمیں کب یاد آیا کارِ بیکار جسے یاد کہا جاتا ہے بات بے بات یہی کارِ عجب یاد آیا ق پارۂ ابر ہٹا سینۂ مہتاب سے جب عشوۂ ناز سرِ خلوتِ […]

اِن غزالوں کو بھلا کس کے ٹھکانے کی خبر

پوچھئے خارِ مغیلاں سے دِوانے کی خبر خاک چھانوں تری گلیوں کی بتا میں کب تک دے مرے شہر کوئی یار پرانے کی خبر اب خبر ملتی نہیں اُن کی زمانے میں کہیں وہ جو رکھتے تھے کبھی سارے زمانے کی خبر تیر ایسے بھی حلیفوں کی کمانوں میں ہیں آج جن کے ترکش کا […]

آخر میں کھلا آ کر یہ راز کہانی کا

انجام سے ہوتا ہے آغاز کہانی کا اس عہدِ تصنع کی ہر بات ہے پردوں میں عنواں نہیں ہوتا اب غماز کہانی کا تکرار بناتی ہے اب جھوٹ کو سچائی تشہیر بدلتی ہے انداز کہانی کا لے آتا ہے منظر پر، جب چاہے نیا کردار رکھا ہے مصنف نے در باز کہانی کا بننا ہی […]

روشنی ہی روشنی ہیں جس طرف سے دیکھئے

جل رہے ہیں جو چراغ اُن کو شرف سے دیکھئے اِس طرح ہو جائے شاید دوست دشمن کی تمیز اپنے لشکر کو کبھی دشمن کی صف سے دیکھئے سازشوں کے سلسلے چارہ گری کے نام پر آج کے اِس دور تک عہدِ سلف سے دیکھئے راہبرمشعل بکف ہے، تیرگی کا خوف کیا راستے کو موقفِ […]

آتشِ رنج و الم، سیلِ بلا سامنے ہے

پیکر خاک میں ہونے کی سزا سامنے ہے شعلۂ جاں ہے مرا اور ہوا سامنے ہے زندگی جلوہ نما ہے کہ قضا سامنے ہے ہر طرف ڈھونڈنے والو! اُسے دیکھو تو سہی وہ کہیں اور نہیں ہے بخدا سامنے ہے منعکس ہوں میں زمانے میں، زمانہ مجھ میں خود بھی آئینہ ہوں اور عکس نما […]

رنگ شفق سے لے کر جیسے رُخ پہ مَلی ہے شام

اور نکھرتا جاتا ہے وہ جب سے ڈھلی ہے شام دھوپ کنارہ زلفوں میں اور چاندنی گالوں پر ایک افق پر چاند اور سورج! کیسی بھلی ہے شام پت جھڑ جیسے رنگوں میں ہے جگنو جیسی آنچ عمر کی جھکتی ٹہنی پر اک کھِلتی کلی ہے شام رنگ فضا میں بکھرے ہیں اور شہنائی کی […]

تخلیقِ کائنات کا آغاز آپ ہیں

حرفِ مقطعات کا ہر راز آپ ہیں حسن و جمال رکھا گیا خد و خال میں اخلاق میں مثال ہیں ممتاز آپ ہیں پیغامِ حق ملا ہے انہیں کی زبان سے دراصل اس خدا کی ہی آواز آپ ہیں ہم عاصیوں پہ خاص کرم یہ خدا کا ہے بخشش کا ہیں وسیلہ، اعزاز آپ ہیں […]

ہر دم مری زبان رہے تر درود سے

ہو میری کل حیات معطر درود سے ڈوبا ہوا ہے نور میں ہر لفظ نعت کا قرطاس یوں ہوا ہے منور درود سے عشقِ نبی میں ڈوب کے پالی حیاتِ نو بے ذر بھی بن گیا ہے ابو ذرؓ درود سے وہ اور ہونگے پھرتے ہیں جو در بدر مدام ہم تو سنوارتے ہیں مقدر […]