قتیلِ درد ہوا میں تو غمگسار آئے
رہی نہ جان سلامت تو جاں نثار آئے تمہارا غم تھا میسر تو کوئی روگ نہ تھا چلا گیا وہ مسیحا تو غم ہزار آئے قبائے کذب و ریا اور کلاہِ نام و نمود کہیں اُترنے سے پہلے ہی ہم اتار آئے ہوئی نہ جرات طوفِ حریم عشق ہمیں بس ایک سنگِ ملامت انا کو […]