مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو

نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر ہر فریب تازہ کومسکرا کے دیکھا تھا دل کو عہدِ رفتہ کے طور ابھی نہیں بھولے چشم خوش گماں گرچہ تیرگی میں الجھی تھی خواب دیکھنا لیکن ہم کبھی نہیں بھولے چُور […]

اٹھاؤں کیسے میں بارِ گرانِ سجدۂ شوق

کہاں زمین، کہاں آسمانِ سجدۂ شوق نبردِ عشقِ بلا کش کہاں ہوئی ہے تمام ابھی تو دور ہے سر سے امانِ سجدۂ شوق زمانے بھر کو مسلسل فرازِ نیزہ سے سنا رہا ہے کوئی داستانِ سجدۂ شوق حقیقت اس کی مری حسرتِ نیاز سے پوچھ زمانے بھر کو ہے جس پر گمانِ سجدۂ شوق وہ […]

مشعلِ حرف لئے نور بکف ہو جائیں

کاش ہم اپنے زمانے کا شرف ہو جائیں عقل کہتی ہے چلو ساتھ زمانے کے چلیں ظرف کہتا ہے کہ ہم ایک طرف ہو جائیں دل یہ کہتا ہے ترا نام اُتاریں دل میں اور کسی گہرے سمندر میں صدف ہو جائیں حیف وہ جنگ کہ دونوں ہی طرف ہوں اپنے ہائے وہ لوگ جو […]

اپنی متاعِ خواب مرے نام کر گیا

اک شخص شہر ہجر میں گمنام مر گیا ترکِ جنون کر کے بیاباں سے گھر گیا بازی نبردِ عشق کی دیوانہ ہر گیا اِس رقص گرد بادِ غم روزگار میں ہر جامۂ لحاظ بدن سے اتر گیا سورج کو سر پہ لاد کے دن بھر چلا تھا میں اُس کو فصیلِ شام پہ چھوڑا تو […]

کیا سخن تھے کہ جو دل میں بھی چھپائے نہ گئے

لبِ اظہار تک آئے پہ سُنائے نہ گئے ضعفِ مضرابِ تمنا کوئی دیکھے تو مرا تار بھی بربطِ ہستی کے ہلائے نہ گئے دل تو کافر ہی رہا توڑ کے بت خانہ بھی بت کچھ ایسے تھے کہ نظروں سے گرائے نہ گئے چشمِ نم بھول گئے، عارضِ تر بھول گئے یہ الگ بات وہ […]

اس شہرِ شب زدہ میں کہ جنگل سے کم نہیں

جگنو شعورِ ذات کا مشعل سے کم نہیں اک مختصر سا لمحۂ بے نور و بے یقین تقویمِ شب میں ساعتِ فیصل سے کم نہیں اک یاد مشکبو تری زلفِ سیاہ کی چشمِ شبِ فراق میں کاجل سے کم نہیں دامانِ احتیاج میں دینارِ بے کسب جوفِ شکم میں تیغ مصقّل سے کم نہیں حاصل […]

دونوں سرے ہی کھو گئے، بس یہ سرا ملا

اپنی خبر ملی ہے نہ اُس کا پتہ ملا رو رو کے مٹ گیا ہوں تو مجھ پر نظر ہوئی بینائی کھو گئی تو مجھے آئنہ ملا اُس کو کمالِ ضبط ملا، مجھ کو دشتِ ہجر لیکن سوال یہ ہے کہ دنیا کو کیا ملا آنے لگے نظر غم و آلامِ دو جہاں بالغ نظر […]

راز در پردۂ دستار و قبا جانتی ہے

کون کس بھیس میں ہے خلقِ خدا جانتی ہے کون سے دیپ نمائش کے لئے چھوڑنے ہیں کن چراغوں کو بجھانا ہے ہوا جانتی ہے اک مری چشمِ تماشہ ہے کہ ہوتی نہیں سیر فکرِ منزل ہے کہ رُکنے کو برا جانتی ہے نشۂ عشق مجھے اور ذرا کر مدہوش بے خودی میری ابھی میرا […]

وہ ایک شخص کہ سب جا چکے تو یاد آیا

کسی کو آئے نہ آئے مجھے تو یاد آیا مقابلے پر اندھیرا نہیں ہوا بھی ہے کئی چراغ یکایک بجھے تو یاد آیا ہمارے ساتھ بھی موسم نے داؤ کھیلا تھا خزاں کے ہاتھ سے پتے گرے تو یاد آیا گئی رتوں کے پرندے ابھی نہیں لوٹے شجر پہ تازہ شگوفے کھلے تو یاد آیا […]

قرآن کہا جائے نہ تفسیر کہا جائے

ہر فتویِٰ تکفیر کو تقصیر کہا جائے کس حرفِ طرح دار پہ انگشتِ یقیں رکھیں کس عکس کو سچائی کی تصویر کہا جائے کس دستِ مسیحائی پہ بیمار کریں بیعت جب زہرِ ہلاہل کو بھی اکسیر کہا جائے معیار بدلتے ہوئے اس دور میں ممکن ہے اک روز اندھیرے کو بھی تنویر کہا جائے آداب […]