حبس جاں رونے سے کچھ اور گراں ہوتا ہے

آگ بجھتی ہے تو انجام دھواں ہوتا ہے تاب گفتار ہی باقی ہے نہ موضوع سخن اب ملاقات کا ماحول زباں ہوتا ہے کھینچ لائی ہے ضرورت مجھے کن راہوں میں ہر قدم پر مجھے دھوکے کا گماں ہوتا ہے غیرسے میری شکایت کا مجھے رنج نہیں گلہ شکوہ بھی محبت کا نشاں ہوتا ہے […]

پھر لگا ہے دوستوں کا تازیانہ مختلف

تیر دشمن کی طرف ہیں اور نشانہ مختلف بے نیازی برطرف، اب لازمی ہے احتیاط وقت پہلا سا نہیں اب، ہے زمانہ مختلف آشیانہ چھوڑنے کی اک سزا یہ بھی ملی روز لاحق ہے تلاشِ آب و دانہ مختلف اک شکم پرور زمیں رکھتی ہے پابستہ مجھے اور وفائیں مانگتی ہیں اک ٹھکانہ مختلف دوسرا […]

مجھے نسبت جو کسی در سے نہ دربار سے ہے

یہ عنایت بھی ترے نام کی سرکار سے ہے بادبانوں کا تکلف نہیں کشتی میں مری آسرا مجھ کو ہوا سے نہیں پتوار سے ہے گونج رہ جائے گی میری جو صدا مر بھی گئی اتنی امید مجھے شہر کی دیوار سے ہے شورِ زنجیر بپا رکھتی ہے جکڑی ہوئی امید دل کی دھڑکن میں […]

کوئی فخر زہد و تقویٰ، نہ غرورِ پارسائی

مجھے سب خبر ہے کیا ہے مرے نفس کی کمائی مجھے جب کبھی اندھیرے ملے راہِ جستجو میں نئی مشعل تمنا ترے نام کی جلائی اسے کیوں نہ سر پہ رکھوں، یہ جزائے بندگی ہے ترے نام سے مزیّن مرا کاسۂ گدائی وہ جو ضبط سے نہ نکلا، کبھی نطق تک نہ پہنچا اُسی حرفِ […]

بے سبب ہم بھی تہ دام نہ آئے ہوں گے

فرش نے عرش کے امکان دکھائے ہوں گے سر جھکاتے ہیں جو ہر سنگ پہ کہہ کر لبیک خوئے تسلیم تری بزم سے لائے ہوں گے جن کے سینے میں دھڑکتا ہو کسی اور کا دل لوگ ایسے بھی تو قدرت نے بنائے ہوں گے اختلافاتِ نظر خود ہیں اُجالے کا ثبوت جس جگہ روشنی […]

(برگد جیسے لوگوں کے نام)

کوئی بھی رُت ہو چمن چھوڑ کر نہیں جاتے چلے بھی جائیں پرندے، شجر نہیں جاتے ہوا اُتار بھی ڈالے اگر قبائے بدن بلند رکھتے ہیں بازو بکھر نہیں جاتے گئی رتوں کے سبھی رنگ پہنے رہتے ہیں شجر پہ رہتے ہیں موسم گذر نہیں جاتے خمیر بنتے ہیں مٹی کا ٹوٹ کر بھی شجر […]

کسی کو روک لیں ہم، ایسے کم نگاہ نہیں

مسافرانِ محبت ہیں سنگِ راہ نہیں ق ستم تو یہ ہے کہ دنیا تمہارے زیرِ ستم تمہارے ظلم کا پھر بھی کوئی گواہ نہیں کھلا ہے کون سا رستہ سپاہِ جبر سے آج بچا ہے کون سا قریہ جو رزم گاہ نہیں؟ متاع ہستی کہاں رکھئے اب بجز مقتل کسی طرف بھی کوئی گوشۂ پناہ […]