نکہتوں کے دوش پر ہے موجۂ گُلزارِ میم
قریۂ احساس میں ہے تیز رَو رہوارِ میم ابجدَی تعبیر کرتی ہے طوافِ روشنی شیشۂ دل پر ہے عکسِ مطلعِ دیدارِ میم آ! تجھے بھی گرمیٔ خورشیدِ محشر، خیر دوں ساتھ لایا ہُوں مَیں اپنے سایۂ دیوارِ میم بے سبب اونچا نہیں ہے قد مرے اشعار کا باندھ رکھی ہے سخن نے رفعتِ دستارِ میم […]