حشر میں پھیلے گا جب سایۂ غُفرانِ وسیع
ڈھانپ لے گا وہ مرا دفترِ عصیانِ وسیع بے طلب ملتا ہے ہر ایک کو حاجت سے سوا سب کی کرتا ہے کفایت ترا فیضانِ وسیع در بدر خوار ہوں کیوں، غیر کا منہ کیا دیکھیں ہم فقیروں کو خوش آیا ہے ترا خوانِ وسیع وہ جو نُصرت کا تری گونجا تھا میثاقِ ازل تا […]