جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے​

نعت رسول مقبول جھلستی دوپہر میں تو نے انسان کو بچایا ہے​ تو پھر اس میں غلط کیا ہے کہ تو رحمت کا سایہ ہے​ دلوں کو جوڑ کر تو نے محبت کی طرح ڈالی​ مٹا کر غیریت کو پیار کا جادو جگایا ہے​ ترے نقشِ کفِ پا نے سرِ صحرائے بے پایاں​ جو رستہ […]

جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے

سوچو تو اس کی ذات بعید از قیاس ہے دل کی نظر سے خالق دل پر نظر کریں اہل دل سے میری یہی التماس ہے ہر چیز سے عیاں ہیں وہ ہر چیز میں نہاں پتوں میں اس کا رنگ ہے پھولوں میں باس ہے دیتی ہے عقل ہفت حجابات کی خبر اور عشق کا […]

بے کیف ہے حیات ترے ذکر کے بغیر

بنتی نہیں ہے بات ترے ذکر کے بغیر بھولیں جو تیرا نام تو بگڑیں تمام کام ہے زندگی ممات ترے ذکر کے بغیر ہے موت بھی حیات تری یاد کے طفیل ہے دوپہر بھی رات ترے ذکر کے بغیر ہے روشنیِ دہر بھی تاریک تیرے بِن کیا نیل کیا فرات ترے ذکر کے بغیر سب […]

کسی بھی لاٹری سے اور خزانوں سے نہیں ہوتی

ہماری حیثیت اونچی ، مکانوں سے نہیں ہوتی دلوں میں زہر بھر کر کون یہ رشتے نبھاتا ہے محبت آپ جیسے بدگمانوں سے نہیں ہوتی ہماری خواہشوں کو گر مقدم رکھ لیا جاتا کبھی رنجش ہماری خاندانوں سے نہیں ہوتی سمندر سے خفا ہو کر الٹ دیتی ہیں ہر ناؤ ہوا کی دشمنی ان بادبانوں […]

جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟

اگر نہیں ہے تو سب کچھ خیال ِ خام ہے کیا ؟ اُداسیاں چلی آتی ہیں شام ڈھلتے ہی ہمارا دل کوئی تفریح کا مقام ہے کیا ؟ وہی ہو تم جو بُلانے پہ بھی نہ آتے تھے بنا بُلائے چلے آئے ، کوئی کام ہے کیا ؟ جواباََ آئی بڑی تیز سی مہک منہ […]

الماری میں سُوکھے پھول نظر آئے

کتنے بیتے موسم دھیان میں دَر آئے ایک لطیفے سے کل یاد آیا کوئی ہنستے ہنستے آنکھ میں آنسو بھر آئے ضبط کی بھٹی میں یوں پک گئے اشک میرے چھانی آنکھ تو مُٹھی میں کنکر آئے اِس حالت کو اُردو میں کیا کہتے ہیں ؟ جب دل کے خالی پن سے دل بھر آئے […]