بارگۂ جمال میں خواب و خیال منفعل

تابِ ُسخن ہے سر بہ خم، شوقِ وصال منفعل پہلے تو خوب زور تھا عرضِ نیازِ دید کا تیرے حضور آ کے ہے صورتِ حال منفعل کاسۂ حرفِ عجز میں تاب و تبِ ُسخن کہاں دستِ عطا کے سامنے جود و نوال منفعل ہالۂ رنگ و نور میں گنبدِ سبز کی نمود لالہ و ُگل […]

حسنِ بے مثل کا اِک نقشِ اُتم ہیں، واللہ

آپ کے نقشِ قدم، رشکِ اِرَم ہیں، واللہ آپ کی وُسعتِ خیرات کی تعبیر محال آپ تو شانِ عطا، جانِ کرم ہیں، واللہ آپ ہی قاسمِ نعمت ہیں باذنِ مُعطی آپ ہی صاحبِ توفیق و نِعَم ہیں، واللہ آپ کی مدح کے امکان ہیں خالق کے سپرد خَلق کے حیطۂ اظہار تو کم ہیں، واللہ […]

کیسے لکھ پائیں تری مدحتِ نعلین ابھی

دیدۂ حیرت و حسرت کے ہیں مابین ابھی آپ کے پائے مبارک کے یہ نوری جوڑے جیسے ُجڑ جائیں گے شرقین سے غربین ابھی کِس کو معلوم تری شوکتِ معراج کی رمز خَلق تو سمجھی نہیں معنیٔ قوسین ابھی قریۂ جاں میں اچانک تری خوشبو مہکی شاید آئے ہیں کہیں سے ترے حسنین ابھی آپ […]

بابِ کرم کے سامنے اِظہار دم بخود

پورا وجودِ ُنطق ہے سرکار دم بخود عجزِ تمام سے نہیں ممکن ثنا تری پھر کیوں نہ ہُوں میں صورتِ دیوار دم بخود اِک رتجگے کی صورتِ مُبہَم ہے رُوبرو خواہش بہ دید دیدۂ بیدار دم بخود اے حاصلِ طلب ترے آنے کی دیر ہے دل کی ہے کب سے حسرتِ دیدار دم بخود تو […]

خیالِ خام لیے، حرفِ ناتمام لیے

گدائے شوق ہے حاضر فقط سلام لیے ہوائے تیز سے تھرا رہے تھے خواب شجر کہ دستِ ساعتِ تسکیں نے بڑھ کے تھام لیے خدا کا شکر کہ وردِ زباں رہے ترے نام سوال جیسے بھی تھے ہم نے تیرے نام لیے کرم ہوا کہ خطاؤں کو تیری رہ سوجھی کہاں کہاں بھلا پھرتا انہیں […]

جمالِ دو عالم تری ذاتِ عالی​

دو عالم کی رونق تری خوش جمالی​ خدا کا جو نائب ہوا ہے یہ انسان​ یہ سب کچھ ہے تری ستودہ خصالی تو فیاضِ عالم ہے دانائے اعظم​ مبارک ترے در کا ہر اِک سوالی​ نگاہِ کرم ہو نواسوں کا صدقہ​ ترے در پہ آیا ہوں بن کے سوالی میں جلوے کا طالب ہوں ، […]

نام جب اُن کا لکھا ہو گیا بہتر کاغذ

اُن کے اوصاف کی خوشبو سے معنبر کاغذ سادہ تھا ، چھپ گیا جب اُس پہ قرآنِ اکرم بن گیا دیکھو مقدّر کا سکندر کاغذ شاخِ طوبیٰ کے قلم سے ہو رقم نعتِ نبی تو لکھوں لالہ و گل کے میں بنا کر کاغذ جس پہ سرکار کا فرمان ہوا ہے مرقوم ہے وہ لاریب! […]

دل آپ کی خوشبو سے ہے آباد نبی جی

کرتے ہیں ہر اک درد سے آزاد نبی جی یہ جن و بشر، ماہ و مہر ، دور کی باتیں ذرّوں کی بھی سن لیتے ہیں فریاد نبی جی اک چشمِ کرم ہو تو کہیں داد بھی پاؤں ابتک ہوں فقط مصرعہء بے داد ، نبی جی تم حال صبا، در پہ مرا، رو کے […]

کرے حمدِ رِب ہے یہ کس کی زبان​

نبی کو ہے اِقرارِ عجز بیان​ یہاں طاقتِ نُطق پاتا نہیں​ کہ کوزے میں دریا سماتا نہیں​ اسی طرح نعتِ رسول کریم​ بیان کس سے ہو جز خدائے قدیم​ وہ ہیں آسمانِ نُبوت کے بدر​ خدا ہی کو معلوم ہے ان کی قدر​ مناسب ہے اس سے بھی عطف عنان​ کروں مختصر حال اپنا بیان​ […]

رِیاضِ جناں ہے نثارِ مدینہ​

بڑے جوش پر ہے بہارِ مدینہ​ مجھے چھو بھی سکتی ہے نارِ جہنم؟​ کہ مجھ پر پڑا ہے غبارِ مدینہ​ نہ بیٹھا کہیں اور جز عرشِ اعظم​ جب اٹھا ہوا سے غبارِ مدینہ​ نہیں بھولتا روضۂ پاکِ احمد​ یہ ہم لائے ہیں یادگارِ مدینہ​ جو بیچے گلستانِ فردوسِ رضواں​ ابھی مول لیتے ہیں خارِ مدینہ​ […]