عقیدتوں کے مدینے کا تاجدار درود

عبادتوں کے قرینے کا اعتبار درود "​زہے نصیب کہ بزم فروغ نعت میں ہوں”​ برنگِ شعر زباں پر ہے کیف بار درود سجی ہے آج درود و سلام کی محفل ہزار بار سلام اور صد ہزار درود سلام چہرۂ انور پہ نور بار سلام درود گیسوئےمشکیں پہ مشک بار درود سلام گوشۂ ابرو پہ دلنشین […]

سرورِ سروراں فخرِ کون و مکاں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​

تیری چوکھٹ ہے بوسہ گہِ قدسیاں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​ جو زمانے میں پامال و بدحال تھے ، ان کو بخشے ہیں تو نے نئے ولولے​ تجھ سے روشن ہوا بختِ تیرہ شباں ، تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں​ حدِ روح الامینی سے بھی ماوراء ، تیری […]

چلو اداسی کے پار جائیں

بکھر رہا ہے خیال کوئی سوال کوئی، ملال کوئی کہاں ہے؟ کس کی؟ مجال کوئی کہ آنکھ جھپکے ترے تصور سے دور جائے مگر یہ ضد کہ ضرور جائے تمہارے غم میں سسک سسک کر اکھڑ چکی ہے طناب غم کی مگر کسی کی مجال کیا ہے کہ روک پائے یہ سلسلہ ہائے روزو شب […]

چاند تک پہنچا کوئی بابِ حرم تک پہنچا

"​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​ رائیگاں اس کی عبادت بھی ریاضت بھی ہوئی تیری گلیوں سے جو ہٹ ہٹ کے حرم تک پہنچا اپنی تقدیر پہ وہ لفظ ہے نازاں کتنا نعتِ آقا کے لیے جو بھی قلم تک پہنچا آپ کی عمر کا گزرا ہے جو اک اک لمحہ ڈھل کے […]

خاکِ نعلین ہوئی سرمہ میری آنکھوں کا

"​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​ میں نے فردوس کے در اپنے پہ کھلتے دیکھے مدحتِ آقا میں جب ہاتھ قلم تک پہنچا کہکشاں چاند ستارے ہیں تیری راہ کی دھول روند کر اوجِ ثریا تو ارم تک پہنچا بات گو میرے گناہوں سے چلی تھی ساجد ذکر پر خواجہء طیبہ کے کرم […]

تم کیا جانو!

تم کیا جانو رونے والو درد کہاں،کب کس لمحے کس پور میں آکر اپنا آپ دکھا دیتا ہے تم کیا جانو تم کو تو بس خستہ حال پہ رونا دھونا آتا ہے تم کیا جانو لاوارث سی خواہش کوئی چھپ چھپ کر جب ایک یتیمی کو روتی ہے تم کیا جانو درد سوتیلا بن کر […]

سینکڑوں موڑ نئے راہِ تمنا میں ملے

جب تیری زلفِ گرہ دار کے خم تک پہنچا دو تھے وہ نور ، جھکے اتنے کہ قوسین بنے سلسلہ قرب کا یوں وصل بہم تک پہنچا سب کی معراج نمازوں میں ہے پنہاں شاکر "​​میری معراج کہ میں تیرے قدم تک پہنچا”​​

یادوں کا ابر چھایا ہے خالی مکان پر

کیا رنگ روپ آیا ہے خالی مکان پر دیوار و در پہ نقش ہے اک بھولی بسری یاد گزرے دنوں کا سایہ ہے خالی مکان پر ہمسائے لا رہے ہیں اداسی کی کچھ دوا فی الحال دم کرایا ہے خالی مکان پر آسیب کوئی ہے جو اسے چھوڑتا نہیں ہر نسخہ آزمایا ہے خالی مکان […]

ترے ذکرسے چِھڑ گئی بات کیا کیا

فسانے سُنے ہم نے کل رات کیا کیا تُو رونے لگے گا اگر میں بتا دوں کہ ہنس ہنس کے جھیلے ہیں صدمات کیا کیا وضو، قرأتِ آیت عشق ، گریہ تری دید کی ہیں رسومات کیا کیا کبھی چال بدلی ، کبھی راہ بدلی کیے ہیں ترے پاؤں نے ہاتھ کیا کیا میں جسموں […]

اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ہوگا ہی

یہ رازِ بوسۂ لب ہے، عیاں تو ہوگا ہی تمام شہر جو دھندلا گیا تو حیرت کیوں؟ دِلوں میں آگ لگی ہے ، دھواں تو ہوگا ہی بروزِ حشر مِلے گا ضرور صبر کا پھل یہاں تُو ہو نہ ہو میرا ، وہاں تو ہوگا ہی یہ بات نفع پرستوں کو کون سمجھائے؟ کہ کاروبارِ […]