سڑکوں پہ لگنے والی عدالت کے ذمے دار

منصف ہیں شہر بھر کی ذلالت کے ذمے دار تو چھوڑ ہر کسی کو چلا آ ہمارے پاس ہم ہیں ناں درد ! تیری کفالت کے ذمے دار اندر جو کشمکش تھی وہی مجھ کو کھا گئی موسم نہیں ہیں میری علالت کے ذمے دار آنکھوں سے لڑ رہے تھے کہ تعبیر بھی ملے کچھ […]

محفل میں جو بھی ہے ، ان کا مقام ، جانتے ہیں

صلہ بغاوتوں کا سب غلام جانتے ہیں تو آپ شہر کے مانے ہوئے رفو گر ہیں ؟ بتائیں دل کی سلائی کا کام جانتے ہیں سخن کی کس طرح قیمت وصول کرنی ہے یہ بات کچھ نئے شعراء کرام جانتے ہیں انہیں بتائیں کہ جھکنا یہاں عبادت ہے رکوعِ عشق کو جو بھی قیام جانتے […]