صلیبِ مرگ پہ آؤ بدن اتارتے ہیں

تمام عمر کی لادی تھکن اتارتے ہیں وہ میری ذات سے یوں منحرف ہوا جیسے کسی قمیض سے ، ٹوٹے بٹن اتارتے ہیں غزال شخص ! تم اِتراو ، حق بھی بنتا ہے تمہاری آنکھ کا صدقہ ہرن اتارتے ہیں ہر ایک سانس ادھڑتی ہے سود بھرتے ہوئے یہ قرضِ زندگی سب مرد و زن […]

گِرداب ، سفر کے لئے آزار ہوئے ہیں

دریا یہ سہولت سے کہاں پار ہوئے ہیں وہ شور کہیں مل کے پرندوں نے کیا تھا جس شور پہ ہم نیند سے بیدار ہوئے ہیں اب اپنا ارادہ نہ بدل لینا کہ ہم لوگ۔ مشکل سے اجڑ جانے کو تیار ہوئے ہیں صد شکر کسی کو تو ضرورت ہے ہماری ہم لوگ ترے ہجر […]