اور ان دنوں کسی سے بھی مطلب نہیں مجھے
مطلب کہ اپنے آپ سے بھی ان دنوں نہیں
معلیٰ
مطلب کہ اپنے آپ سے بھی ان دنوں نہیں
جس کے دشمن سے بھی سنجوگ نکل آتے ہیں
پھر اس کے بعد میں نے بھی اداکاری کی حد کردی
جن کی غمِ حسین میں آنکھیں اداس ہیں
وقتِ مغرب بھی دکھائی دے عزادارِ حسین
کہا بھی تھا کوئی ٹوٹا چراغ روشن کر
ہمیں زرداب ہونا ہے اسی سرسبز موسم میں
تمام عمر کی لادی تھکن اتارتے ہیں وہ میری ذات سے یوں منحرف ہوا جیسے کسی قمیض سے ، ٹوٹے بٹن اتارتے ہیں غزال شخص ! تم اِتراو ، حق بھی بنتا ہے تمہاری آنکھ کا صدقہ ہرن اتارتے ہیں ہر ایک سانس ادھڑتی ہے سود بھرتے ہوئے یہ قرضِ زندگی سب مرد و زن […]
دریا یہ سہولت سے کہاں پار ہوئے ہیں وہ شور کہیں مل کے پرندوں نے کیا تھا جس شور پہ ہم نیند سے بیدار ہوئے ہیں اب اپنا ارادہ نہ بدل لینا کہ ہم لوگ۔ مشکل سے اجڑ جانے کو تیار ہوئے ہیں صد شکر کسی کو تو ضرورت ہے ہماری ہم لوگ ترے ہجر […]
مرا غرور سلامت ،تمہارے جیسے بہت