ہم اپنی کمزوریوں کو طاقت میں ڈھالتے ہیں

گلا دباؤ تو ہم بھی آنکھیں نکالتے ہیں یہ نم رہے گا سدا میسر تو دیکھنا ہم تمام پودوں کو کیسے گریے پہ پالتے ہیں انہیں روایات کہنے والے غلط ہیں صاحب یہ بیڑیاں ہیں جو لوگ پیروں میں ڈالتے ہیں یہ داؤ سیکھا ہے ہم نے اپنے ہی دوستوں سے جسے گرانا ہو پہلے […]

دیویوں کو مندروں میں جاپ کی خاطر ملے

لوگ سمجھے داس اُن سے پاپ کی خاطر ملے عاجزی سیکھی کہ تربیت کو سب اچھا کہیں ہم تو جھک کے سب سے ہی ماں باپ کی خاطر ملے زندگی ہم سے ملی یوں جیسے داروغہ کوئی مجرموں سے گردنوں کے ناپ کی خاطر ملے ہم نے گھر آئے ہوئے مہمان کا رکھا خیال تیرے […]

لگا کے داؤ پہ رکھنا یہ نیک نامی مری

تھی بدمزاج طبیعت کی پہلی خامی مری گئی تھی دیکھنے میں رونقِ عدم آباد وہاں پہ لکھ دی گئی شہریت مقامی مری کہیں پہ رونا ہو ، میں قہقہے لگاتی ہوں یہ کار روائی ہے اے شخص انتقامی مری میں اپنی روشنی جس روز آشکار کروں چراغ کرنے لگیں گے ترے ، غلامی مری بس […]

ہجر کے کرب سے ، یوں لَف سے ، نکل آئیں گے

سازِ وحشت ہیں ، کسی دَف سے نکل آئیں گے ہاتھ پہ لکھے ہوئے حرف چھپا لو ، ورنہ سینکڑوں راز مخفف سے نکل آئیں گے اتنے دشمن تو خدایا کسی دشمن کے نہ ہوں ہاتھ جھٹکوں تو کئی کَف سے نکل آئیں گے وقت پڑنے پہ مددگار ہیں آنسو میرے ایک آواز پہ سَو […]

ماہِ کامل نہ سہی پاس ، ستارہ کوئی ہے

یہ غلط فہمی رہی ہم کو ، ہمارا کوئی ہے یہ جو بہتے ہوئے لاشے ہیں ، کہاں جاتے ہیں ؟ بول دریائے ستم تیرا کنارہ کوئی ہے ؟ بس ہوا ملتے ہی ہر یاد بھڑک اٹھتی ہے یوں سمجھ راکھ کے اندر بھی شرارا کوئی ہے کوئی دستک ہی نہ تھی اور نہ "​میں […]