سب کی وحشت کو خلاؤں میں لگایا ہوا ہے

دکھ نے میلہ سا ہواؤں میں لگایا ہوا ہے لوگ پہچان لیا کرتے ہیں اکثر ، میں نے تیری خوشبو کو قباؤں میں لگایا ہوا ہے اس کے رستے پہ بچھا رکھی ہیں اپنی آنکھیں اور سماعت کو فضاؤں میں لگایا ہوا ہے دل ترے شہر کی رونق میں الجھ جاتا ہے پوچھ مت کیسے […]

دعا کی اپنی ضرورت ، شراپ کی اپنی

طلب جدائی کی اپنی ملاپ کی اپنی قدم بڑھاتے ہوئے ڈگمگا گئے ہم لوگ اٹھا کے گٹھڑی چلے پُن و پاپ کی اپنی میں کس کے چھوڑ کے جانے پہ کم کروں ماتم کہ ماں کی اپنی محبت تھی باپ کی اپنی میں خود ہی پیچھا کئی دن سے کررہی اپنا سنی ہے میں نے […]