خود کو لوگوں کے ترازو میں کہاں تولتی میں
میری مرضی نہیں ہوتی تو نہیں بولتی میں میرا احسان سمجھ جانے دیا ہے تجھ کو ورنہ یہ عشق تو رگ رگ میں تری گھولتی میں
معلیٰ
میری مرضی نہیں ہوتی تو نہیں بولتی میں میرا احسان سمجھ جانے دیا ہے تجھ کو ورنہ یہ عشق تو رگ رگ میں تری گھولتی میں
خود فراموش سہی ، اتنا پتہ رکھتی ہوں
دئیے کو سورج کی حکمرانی نہیں ملے گی کچھ اس صفائی سے قتل خود کو کیا ہے میں نے کسی کو میری کوئی نشانی نہیں ملے گی
دکھ نے میلہ سا ہواؤں میں لگایا ہوا ہے لوگ پہچان لیا کرتے ہیں اکثر ، میں نے تیری خوشبو کو قباؤں میں لگایا ہوا ہے اس کے رستے پہ بچھا رکھی ہیں اپنی آنکھیں اور سماعت کو فضاؤں میں لگایا ہوا ہے دل ترے شہر کی رونق میں الجھ جاتا ہے پوچھ مت کیسے […]
میں ان باتوں پہ ہنس پڑتی ہوں جن پہ رو نہیں سکتی
یہ چند روگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں یہ صرف لوگ ہیں کومل کوئی خدا تو نہیں بھلا یہ لوگ مرا کیا بگاڑ سکتے ہیں
یہ ترا شہر مری جان کا دشمن نہ بنے
دریا کے آس پاس کوئی گھر بنائیے
وہ درندے بھی تو ماؤں نے جَنے ہوتے ہیں
طلب جدائی کی اپنی ملاپ کی اپنی قدم بڑھاتے ہوئے ڈگمگا گئے ہم لوگ اٹھا کے گٹھڑی چلے پُن و پاپ کی اپنی میں کس کے چھوڑ کے جانے پہ کم کروں ماتم کہ ماں کی اپنی محبت تھی باپ کی اپنی میں خود ہی پیچھا کئی دن سے کررہی اپنا سنی ہے میں نے […]