تو کیا برا ہے اگر خود سے کر لیا میں نے
مجھے کسی نہ کسی سے تو عشق ہونا تھا
معلیٰ
مجھے کسی نہ کسی سے تو عشق ہونا تھا
قصہء خوب اور خراب پہ داد ممتحن ! عشق کے نصاب پہ داد پھر وہی اک سوال قربت کا پھر ترے جھوٹ کے جواب پہ داد اس برے وقت میں بھلا سا لگا جاگتی چشمِ نم کے خواب پہ داد عشق ہے اور بے حساب بھی ہے ؟ یار ، اس لفظ بے حساب پہ […]
حادثے کو بھی المناک نہیں ہونے دیا
ہم پرندوں پہ برا وقت نہ آنے دیں گے
پتھروں کو بھی ترے خواب دکھائی دیتے
اب جو قاتل ہے وہ مقتول بھی ہوسکتا ہے
مار ہی ڈالے نہ احساس ِ زیاں ، جیتے رہو میں نے سیکھا ہے اذیت میں بھی ہنستے رہنا مجھ کو آتی ہے یہی ایک زباں ، جیتے رہو یار یہ بار تو ہم سب نے اٹھایا ہوا ہے زندگی ہو بھی اگر کوہِ گراں ، جیتے رہو اے مرے ضبط پہ سب انگلی اٹھانے […]
پرانے شاعر نئی زمینوں کو دیکھتے ہیں تو علم ہوتا ہے سانپ بچھو پلے ہوئے تھے اگر کبھی اپنی آستینوں کو دیکھتے ہیں تمہارا چہرہ ، تمہارے رخسار و لب سلامت کہ ہم تو حسرت سے ان خزینوں کو دیکھتے ہیں بچھڑنے والے اداس رت میں کلینڈروں پر گزشتہ سالوں ، دنوں ، مہینوں کو […]
کاٹنے والے مجھے بانجھ شجر کہتے تھے
بنا دی پیڑ کی تصویر اک دیوار پر میں نے