قصہ ء خوب اور خراب پہ داد

قصہء خوب اور خراب پہ داد ممتحن ! عشق کے نصاب پہ داد پھر وہی اک سوال قربت کا پھر ترے جھوٹ کے جواب پہ داد اس برے وقت میں بھلا سا لگا جاگتی چشمِ نم کے خواب پہ داد عشق ہے اور بے حساب بھی ہے ؟ یار ، اس لفظ بے حساب پہ […]

چھوڑ دو اہل بیاں ، آہ و فغاں ، جیتے رہو

مار ہی ڈالے نہ احساس ِ زیاں ، جیتے رہو میں نے سیکھا ہے اذیت میں بھی ہنستے رہنا مجھ کو آتی ہے یہی ایک زباں ، جیتے رہو یار یہ بار تو ہم سب نے اٹھایا ہوا ہے زندگی ہو بھی اگر کوہِ گراں ، جیتے رہو اے مرے ضبط پہ سب انگلی اٹھانے […]

غزال آنکھوں کو ، مہ جبینوں کو دیکھتے ہیں

پرانے شاعر نئی زمینوں کو دیکھتے ہیں تو علم ہوتا ہے سانپ بچھو پلے ہوئے تھے اگر کبھی اپنی آستینوں کو دیکھتے ہیں تمہارا چہرہ ، تمہارے رخسار و لب سلامت کہ ہم تو حسرت سے ان خزینوں کو دیکھتے ہیں بچھڑنے والے اداس رت میں کلینڈروں پر گزشتہ سالوں ، دنوں ، مہینوں کو […]