وہ اس لئے بھی مری دیکھ بھال کرتا ہے
میں اس کو حسب ضرورت ، بہت ضروری ہوں
معلیٰ
میں اس کو حسب ضرورت ، بہت ضروری ہوں
اور پچھتاوا کھیڑوں میں تقسیم ہوا داد کا اک چوتھائی اصلی شاعر کو باقی کالی بھیڑوں میں تقسیم ہوا
میں لکھوں گی عشق کی موجد یہی منحوس ہے
ایک ہی وقت میں میں خوش بھی ہوں افسردہ بھی
غم میسر آ گیا ہے وہ بھی حسبِ ذائقہ
یہ صرف شعر ہیں احباب ! خود نوشت نہیں حدودِ وصل میں کیوں پاؤں رکھ نہیں پاتے تو پھر یہ زندگی شداد کی بہشت نہیں؟
فلاں عامل وظیفہ اور فلاں تعویذ دیتا ہے تجھے جھوٹی محبت مل گئی اس پہ قناعت کر یہاں کومل کسی کو کون خالص چیز دیتا ہے
آپ میرا بارہا برتا ہوا مضمون ہیں
مجھ سے وہ شخص ہم کلام نہ ہو میری خواہش ہے عشق ہو مجھ کو اور پھر اور کوئی کام نہ ہو جل ہی جائے ہوا ستمبر کی کوئی اتنا سبک خرام نہ ہو عام لوگوں کو بھی میسر ہے اس سے کہنا کہ اور عام نہ ہو بزدلوں کی بناو فہرستیں یاد رکھنا کہ […]
اگر پرندے خلوص دل سے اڑان بھرتے وہ سرخ پھولوں سا شخص بازار آیا ہوتا تو سارے خوشبو فروش اپنی دکان بھرتے اے کم میسر !! ترا نہ ہونا تو طے شدہ تھا مگر جو نقصان ہو چکا وہ تو آن بھرتے ہمارے ملنے کی شرط شائد بہت کڑی تھی کہ جس کا تاوان عمر […]