جس کو عورت کا احترام نہ ہو

مجھ سے وہ شخص ہم کلام نہ ہو میری خواہش ہے عشق ہو مجھ کو اور پھر اور کوئی کام نہ ہو جل ہی جائے ہوا ستمبر کی کوئی اتنا سبک خرام نہ ہو عام لوگوں کو بھی میسر ہے اس سے کہنا کہ اور عام نہ ہو بزدلوں کی بناو فہرستیں یاد رکھنا کہ […]

شجر کہاں تک بھلا ہواؤں کے کان بھرتے

اگر پرندے خلوص دل سے اڑان بھرتے وہ سرخ پھولوں سا شخص بازار آیا ہوتا تو سارے خوشبو فروش اپنی دکان بھرتے اے کم میسر !! ترا نہ ہونا تو طے شدہ تھا مگر جو نقصان ہو چکا وہ تو آن بھرتے ہمارے ملنے کی شرط شائد بہت کڑی تھی کہ جس کا تاوان عمر […]