مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا

دلِ معصوم کو آتنک وادی کردیا نا مرے سینے میں اک ٹکڑا فسادی کردیا نا جو تیری قربتوں سے آشنا تھی اس ہوا نے تری خوشبو کو گلیوں میں منادی کر دیا نا کبھی وہ میرا دل تھا اب جو تیری سلطنت ہے محبت کر کے تجھ کو شاہزادی کر دیا نا پھر اس نے […]

بخت میں ایسی کوئی شام نہ ہو

ساتھ تجھ جیسا خوش خرام نہ ہو چل پڑوں میں انا کے رستے پر یہ سفر عمر بھر تمام نہ ہو ملنے آ جانا میرے بنجارے جب محل میں کوئی غلام نہ ہو چل پڑیں لوگ جانبِ دریا اور کشتی کا اہتمام نہ ہو ہجر تا عمر ساتھ رہ جائے یہ رفاقت بھی چند گام […]

وہ بھیجتا تھا دلاسے تو اعتماد بھرے

مگر یہ زخم بڑی مدتوں کے بعد بھرے قسم خدا کی بغاوت کی سمت کھینچتے ہیں یہ سب رویے تعصب بھرے ، عناد بھرے کہیں پہ عکس مکمل ، کہیں ادھورے تھے جو آئینے بھی میسر تھے سب تضاد بھرے یہ عشق ایک دن اپنی ہوس دکھائے گا سو نظریات بدل لینا اعتقاد بھرے جو […]

یہ مری ضد ہے کہ ملتان نہیں چھوڑوں گی

مر تو جاؤں گی تری جان نہیں چھوڑوں گی عشق لایا تھا مجھے گھیر کے اپنی جانب اس منافق کا گریبان نہیں چھوڑوں گی یہ تو ترکہ ہے جو پرکھوں سے ملا ہے صاحب دشت کو بے سرو سامان نہین چھوڑوں گی یہ نہ ہو سین بدلتے ہی بچھڑ جائے تو ہاتھ میں خواب کے […]

ہجر کا رنج گھٹے ، ایسی دعا جانتا ہے ؟

تو کوئی ورد ، کوئی اسم ، بتا جانتا ہے بس قیافوں پہ مجھے چھوڑ کے جانے والے یہ ترا شہر مرے بارے میں کیا جانتا ہے ؟ مشورے دیتے ہوؤں کو بھی کہاں ہے معلوم اتنا معصوم نہیں ، اچھا برا جانتا ہے تو نے کیا سوچ کے مضمون چرایا میرا دین اسلام میں […]