نعتیہ قطعات

میرا یہ عقیدہ ہے بلا شائبۂ شک محدود نہیں ذکرِ نبی اہلِ زمیں تک ہے بزمِ ملائک میں سرِ عرش بھی چرچا فرمودۂ ربی ہے ’’ رفعنا لک ذکرک‘​‘​ توصیف کریں سب اہلِ سخن اجمالی کملی والے کی تکمیلِ ثنا ممکن ہی نہیں اس کالی کملی والے کی نام اونچا کملی والے کا شان عالی […]

جمال و رعب و جلال دیکھیں سخن بلاغت نظام دیکھیں

شہِ ہدیٰ کا نہیں ہے ثانی پھریں زمانہ تمام دیکھیں ہے ختم کارِ نبوت ان پر رسالت ان پر تمام دیکھیں ہر ایک پہلو سے ہے مکمل ہزار پہلو یہ کام دیکھیں ملاءِ اعلیٰ کا یہ وظیفہ بہ حکمِ ربِ انام دیکھیں درود پڑھنا نبی پہ ہر دم نہ صبح دیکھیں نہ شام دیکھیں مزارِ […]

زباں پر ہے میری نعتِ پیمبر

اٹھی موجِ مسرت دل کے اندر ثنا خواں جس کا ہو خلاقِ اکبر ثناء اُس کی بشر سے ہو تو کیونکر زمیں پر ہے نہ کوئی آسماں پر کہیں ان کا مقابل ہے نہ ہمسر خدا کی ذاتِ بے ہمتا کا مظہر صفاتِ رب کا مجموعہ سراسر زہے صورت کہ ہے بے حد منور وہ […]

کچھ کفر نے فتنے پھیلائے، کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے

سینوں میں عداوت جاگ اٹھی، انسان سے انساں ٹکرائے پامال کیا، برباد کیا، کمزور کو طاقت والوں نے جب ظلم و ستم حد سے گزرے، تشریف محمد لے آئے رحمت کی گھٹائیں لہرائیں، دنیا کی امیدیں بر آئیں اکرام و عطا کی بارش کی، اخلاق کے موتی برسائے تہذیب کی شمعیں روشن کیں، اونٹوں کے […]

ناداروں کو علم کے موتی آقا نے انمول دیے

بابِ جہالت بند کیا اور ذہنوں‌کے در کھول دیے انگاروں کو پھول بنایا ذرّوں کو خورشید کیا جن ہونٹوں میں زہر بھرا تھا ان کو میٹھے بول دیے میرے آقا آپ نے ان کو درس دیا ہے محنت کا دنیا کے لوگوں نے جن کے ہاتھوں میں کشکول دیے آپ سے بڑھ کر انسانوں کا […]

عشق مہمان ہوا حُسن کے گھر آج کی رات

جذبہء دل ہے بآ غوش اثر آج کی رات بختِ بیدار نے دی دولتِ سرمد کی نوید کیوں نہ آنکھوں میں کٹے تابہ سحر آج کی رات اپنے اللہ سے ملنے کے لیے جاتا ہے اپنے اللہ کا منظور نظر آج کی رات ماہ و انجم نے سرِ راہ بچھا دیں آنکھیں کیونکہ ہے ناقہء […]

میرے دل میں ہے یادِ محمد میرے ہونٹوں پہ ذکرِ مدینہ

تاجدارِ حرم کے کرم سے آ گیا زندگی کا قرینہ میں غلامِ غلامانِ احمد میں سگِ آستانِ محمد قابلِ فخر ہے موت میری قابلِ رشک ہے میرا جینا دل شکستہ ہے میرا تو کیا غم اس میں رہتے ہیں شاہِ دو عالم جب سے مہماں ہوئے ہیں وہ دل میں، دل مرا بن گیا ہے […]

واہ کیا جلوہ ء اعجاز تھا جانا آنا

واہ کیا جلوہء اعجاز تھا جانا آنا شبِ اسرا میں عجب راز تھا جانا آنا دیکھ اس جلوہء رفتار کو حیراں تھے مَلک حیرتِ دیدہء پرواز تھا جانا آنا عرش و کرسی سے گئے دور کروڑں منزل کیا ہی ممتاز سرافراز تھا جانا آنا ساعتِ چند میں دیکھو تو کہاں تک پہنچے حق کے محبوب […]

یہ آرزو نہیں کہ دعائیں ہزار دو

پڑھ کے نبی کی نعت لحد میں اُتار دو دیکھا ابھی ابھی ہے نظر نے جمالِ یار اۓ موت! مجھ کو تھوڑی سی مہلت اُدھار دو سنتے ہیں جاں کنی کا لمحہ ہے بہت کٹھن لے کر نبی کا نام یہ لمحہ گزار دو میرے کریم میں تِرے در کا فقیر ہوں اپنے کرم کی […]

کیا کہوں کیا بتا دیا تو نے

مجھ کو جینا سکھا دیا تو نے سر تو جھکتا تھا سامنے رب کے دل بھی میرا جھکا دیا تو نے حق و باطل کا درس تو نے دیا راہ حق کا پتہ دیا تو نے اور کیا چاہئے مجھے پھر اب مجھ کو میرا خدا دیا تو نے ہر طرف بے وفا تھے دنیا […]