یا رب عظیم ہے تو

سب پر رحیم ہے تو تعریف تجھ کو زیبا توصیف میرا شیوہ آنکھوں سے تو چھپا ہے دل میں مگر بسا ہے پھولوں میں تیری خوشبو گُلشن میں بس تو ہی تو سورج میں نور تیرا ہر جا ظہور تیرا تو ہی بزرگ و برتر قادر ہر ایک شے پر خالق ہے آسماں کا مالک […]

تری نگاہ سے ذرے بھی مہر و ماہ بنے

گدائے بے سروساماں جہاں پناہ بنے​ رہ مدینہ میں‌قدسی بھی ہیں جبیں فرسا یہ آرزو ہے مری جاں بھی خاکِ راہ بنے​ زمانہ وجد کُناں اب بھی اُن کے طوف میں ہے جو کوہ و دشت کبھی تیری جلوہ گاہ بنے​ حضور ہی کے کرم نے مجھے تسلی دی حضور ہی مرے غم میں مری […]

حرمِ سیدِ ابرار تک آ پہنچے ہیں

سرزمینِ فلک آثار تک آ پہنچے ہیں ہم سیہ کار بھی انوار تک آ پہنچے ہیں ہم گنہ کار بھی دربار تک آ پہنچے ہیں رقص کرتے ہوئے سامانِ سفر باندھا تھا وجد کرتے ہوئے سرکار تک آ پہنچے ہیں اللہ اللہ یہ ہم سوختہ جانوں کا نصیب کہ ترے سایہء دیوار تک آ پہنچے […]

بروزِ جمعہ پڑھے جو درود اور صلوات

نہ ہووے کیونکر اُسے نارِ دوزخی سے نجات کہا خدا نے پڑھو مومنو نبی پہ درود بس اب ہمیں یہ وردِ درود ہے طاعات گر آرزوئے قبولِ دعا ہو اے لوگو بروز جمعہ پڑھو تم درود ہر اوقات دعا کے ساتھ نہ ہووے اگر درود شریف نہ ہووے حشر تلک بھی بر آورِ حاجات قبولیت […]

شاہِ کونین پر عزتیں ختم ہیں

آپ کی ذات پر عظمتیں ختم ہیں ختم دورِ رسالت ہوا آپ پر مصطفیٰ پر سبھی شوکتیں ختم ہیں قاب قوسین سے صاف ظاہر ہوا ایسی قربت پہ سب قربتیں ختم ہیں جو کتابِ مبیں اتری ہے آخری اس پہ تفہیم کی لذتیں ختم ہیں ہے رفعنا میں جب رفعتوں کا بیاں اُن پہ کیوں […]

عاصیو جُرم کی دوا ہے درود

کیا دوا عینِ کیمیا ہے درود سب عبادت میں ہے شمولِ ریا پر عباداتِ بے ریا ہے درود ایک ساعت میں عمر بھر کے گناہ کرتا معدوم اور فنا ہے درود حشر کی تیرگی سیاہی میں نور ہے، شمعِ پُر ضیا ہے درود چھوڑیو مت درود کو کافی راہِ جنت کا رہنما ہے درود

تصادمِ حق و باطل ہے میرے سینے میں

قرار اب تو نہ مرنے میں ہے نہ جینے میں نظامِ مصطفوی کو نہ بھول اے مسلم تری حیات کا مقصود ہے مدینے میں طلب جو ہو تو مدینے کی ہو طلب تجھ کو مزا ہے ساقیء کوثر سے جام پینے میں رشید دین کی، دنیا کی ہر خوشی ہے نہاں کمی ہے کون سی […]

تو ہے مشکل کشا، اے خدا، اے خدا

مجھ کو مجھ سے بچا، اے خدا، اے خدا کب سے بھٹکا ہوا دشتِ خواہش میں ہوں مجھ کو رستہ بتا ، اے خدا، اے خدا کوئی دوبارہ ملنے کی توفیق دے میں ہوں خود سے جدا، اے خدا، اے خدا اپنے افلاک سے میرے ادراک سے تو ہے سب سے بڑا، اے خدا، اے […]

وہ کیسا سماں ہوگا کیسی وہ گھڑی ہوگی

جب پہلی نظر اُن کے روضے پہ پڑی ہوگی یہ کوچہ جاناں ہے، آہستہ قدم رکھنا ہرجا پہ ملائک کی بارات کھڑی ہوگی کیا سامنے جا کے ہم حال اپنا سنائیں گے سرکار کا در ہوگا، اشکوں کی جھڑی ہوگی کچھ ہاتھ نہ آئے گا، آقا سے جدا رہ کر سرکار کی نسبت سے توقیر […]

ایسا کوئی محبوب نہ ہو گا نہ کہیں ہے

بیٹھا ہے چٹائی پہ مگر عرش نشیں ہے مِلتا نہیں کیا کیا، دو جہاں کو ترے در سے؟ اِک لفظ “نہیں“ ہے، کہ ترے لب پہ نہیں ہے تُو چاہے تو ہر شب ہو مثالِ شبِ اسرٰی تیرے لئے دو چار قدم عرش بریں ہے رُکتے ہیں وہیں جا کے قدم اہلِ نظر کے اُس […]