ایک بے نام کو اعزازِ نسب مل جائے
کاش مدّاحِ پیمبر کا لقب مل جائے میری پہچان کسی اور حوالے سے نہ ہو اقتدارِ درِ سلطانِ عرب مل جائے آدمی کو وہاں کیا کچھ نہیں ملتا ہوگا سنگ ریزوں کو جہاں جنبشِ لب مل جائے کس زباں سے میں تری ایک جھلک بھی مانگوں طلبِ حُسن تو ہے حُسنِ طلب مل جائے اب […]